پاکستان کے صوبہ سندھ کے دالحکومت کراچی کے قدیم بلوچ علاقے لیاری میں بلوچستان کی آزادی کیلئے سرگرم مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ سے مبینہ تعلق رکھنے والے سنگھار نامی ایک سرمچار کا نام ریڈ بک میں شامل کرنیکا دعویٰ سامنے آیا ہے ۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ لیاری کے معروف فٹبالر عبدالرشید ذکری کا بیٹا علی حسن عرف سنگھار قوم پرستی کی بے راہ روی کا شکار ہواہے۔
سیکورٹی ذرائع نے علی حسن عرف سنگھار پر انتہا پسندانہ سرگرمیوں اور دہشت گردی میں انتہائی متحرک کردار ادا کرنے کا الزام لگایا ہے۔
سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی)کی ریڈ بک کے نئے ایڈیشن میں علی حسن عرف سنگھار کا نام، تصویر اور دیگر تفصیلات 113 صفحہ پر شائع کی گئی ہیں۔
سی ٹی ڈی کی جاری تفصیلات کے مطابق سنگھار افغانستان اور ایران سے کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے اپنا گروپ چلا رہا ہے۔ ریڈ بک میں وارداتوں یا مقدمات کی تفصیلات تو شامل نہیں کی گئیں لیکن بتایا گیا ہے کہ ملزم کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں مطلوب ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ملزم ان دنوں ایران میں ہے تاہم لیاری میں اس کے گروہ کے لڑکے بھتہ اور دیگر جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔
واضع رہے کہ سی ٹی ڈی اپنی فیک انکائونٹر اور فیک مقدمات کے ذریعے لاپتہ و بے گناہ افراد کی جبری گمشدگیو ں اور قتل جیسے گھنائونے عمل میں متنازع پائے جاتے ہیں۔