بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی،گرفتاری اورہتک آمیز مقدمات

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

اداریہ

قبضہ گیریت میں جبر،تشدداور بھیانک نسل کشی کے ساتھ ساتھ توہین،ہتک اور ذلت کا عنصر ہمیشہ نمایاں ہوتاہے جس کا بنیادی مقصد مقبوضہ قوم کو نفسیاتی طورپراحساس کمتر ی اور شکست خوردگی میں مبتلا کیاجائے اور مسلسل ذلت آمیزی سے اْس قوم کی عزت نفس مٹ جائے اور اس میں مزاحمت اور انسانی اوصاف ہمیشہ کے لئے معدوم ہوجائیں۔ بلوچ قوم کے ساتھ اسی رویے کے ساتھ ریاست پاکستان یہی کچھ کرتا چلا آرہاہے اورستر سالوں سے یہی سلسلہ بلا تعطل ہورہاہے اوراس میں کمی کے بجائے اضافہ ہی دیکھنے میں آتاہے۔اگر ہم موجودہ تحریک کو دیکھیں تو حالیہ دور میں ظلم و بربریت کی داستانیں ماضی کے مقابلے میں آج زیادہ نمایاں صورت میں ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ ماضی میں بھی خاص کر 70ء  کی دہائی میں چلنے والی تحریک آزادی میں ہزاروں بلوچوں کو نہ صرف شہید اور ہزاروں کو علاقہ بدر کیا گیا بلکہ لاتعداد بلوچ فرزند بدنام زمانہ عقوبت خانوں میں زندگی کی بازی ہار بیٹھے جن میں خواتین پہ ریاستی مظالم کی داستانیں بھی شامل ہیں۔ لیکن ماضی میں ایسی رپورٹیں منظر پہ نہیں آ ئیں اس کی اہم وجہ ریاستی میڈیا جو ریاست کے کسی ایسے فعل کو منظر عام پہ نہیں لاتی جو ریاست کی ساکھ کے لیے بہتر نہ ہو، عالمی اداروں کی رسائی نہ ہونا اور تیسری وجہ عالمی سطح پہ ان مظالم کو آشکار کرنے کے لیے نمائندگی اور اداروں کا نہ ہونا رہا ہے۔
جب کہ موجودہ دور میں اگرچہ ریاستی میڈیا بلیک آؤٹ ہے اور عالمی میڈیا کو بلوچستان میں جانے کی اجازت نہیں لیکن سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے عوامی سطح پہ تحریک کے اوائل سے لیکر آج تک آگائی مہم اور بیرونی سطح پہ مربوط نظام کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کااستعمال ایسے مسائل یا واقعات کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہیں جس کے ذریعے پاکستانی مظالم کا پردہ فاش ہورہا ہے۔ پاکستان کے ا نہی بربریت کی مثالوں میں سے ایک گزشتہ دنوں آواران میں دو مختلف علاقوں میں قابض ریاست کی جانب سے فوجی کاروائیوں کے ذریعے چار بلوچ خواتین بی بی سکینہ،بی بی سعیدہ، بی بی حمیدہ اور بی بی نازل کو جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا جبکہ ان کے علاوہ بعض خواتین کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہوچکی ہیں اور عسکری اداروں کے اہلکاروں نے ڈیرہ بگٹی میں خواتین کو لاپتہ کردیا گیا جبکہ کیچ میں بلوچ شاعر مرحوم علی جان قومی کی دختران کو جبری طور پر اغواء  کرنے کی کوششیں بھی کی گئی۔
 موجودہ تحریک آزادی میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کے واقعات اس وقت رپورٹ ہوئے جب بانک زرینہ مری کو اس کے شیرخوار بچے کے ساتھ جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا جو آج تک لاپتہ ہے یا ریاستی بربریت کی وجہ سے شہید ہوچکی    ہے۔اس کے بعد تو عورتوں پہ ظلم و بربریت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں مصدقہ اطلاعات کے مطابق سینکڑوں بلوچ خواتین ریاستی عقوبت خانوں میں مقید ہیں اور ہزاروں ہراسگی کا شکار ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں۔
 اس ضمن میں گزشتہ دنوں قابض ریاست کی جانب سے ان خواتین کو منظر عام پہ لانے کا ڈرامہ بھی رچایا گیا جس میں میڈیا پہ ان خواتین کی تصویریں بھی شائع کی گئیں جس میں انہیں اسلحہ سمیت دکھایا گیا اور ساتھ ہی ان پر بلوچ مسلح تنظیموں کی سہولت کاری کے الزامات عائد کیے گئے۔ لیکن ایسے ریاستی ہتھکنڈوں سے دنیا واقف ہے کہ اس غیر مہذب اور غیر فطری ریاست نے اپنے مظالم پہ پردہ ڈالنے کے لیے ماضی میں بھی ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔

ٍحالیہ واقعات پہ آزادی پسند تنظیموں اور جماعتوں کی جانب سے سخت ردعمل بھی سامنے آیا جن میں آزادی پسند رہنماء ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ سمیت دیگر آزادی پسند رہنماؤں نے اس قابض ریاست کے اس ظالمانہ عمل کو نا صرف غیر انسانی عمل قرار دیا ہے بلکہ انہوں نے عالمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ نام نہاد قوم پرستوں کو جو بلوچیت کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کی خاموشی کو ناقابل معافی قوم جرم قرار دیا۔اس کے علاوہ سماجی سطح پہ ریاست کے خلاف غم و غصے کی فضاء قائم ہے۔ اگر عالمی ادارے اور مہذب دنیا یوں ہی چھپ سادھ لے گی تو نہ صرف عقوبت خانوں میں مقید 40000ہزارسے زائد بلوچوں بشمول ان خواتین کی زندگی داؤ پہ لگ جائیگی بلکہ ریاستی بربریت میں مزید اضافے کا سبب بھی بنے گا۔
پاکستانی مظالم کی داستانیں دنیا سے پوشیدہ نہیں جن کی جھلک دنیا نے بنگال میں دیکھی جہاں تیس لاکھ بنگالیوں کا پاکستانی عسکری اداروں کے ہاتھوں قتل عام اور لاکھوں خواتین کی عصمت دری کے واقعات۔ آج بلوچستان میں بھی ریاستی ظلم بنگال کی شبیہہ پیش کررہی ہے جہاں خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کرنا اور انہیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا روز کا معمول بن چکا ہے۔اگر عالمی ادارے اور عالمی میڈیا ان علاقوں کا دورہ کریں انہیں بلوچستان کے ہر چورائے پہ ظلم کی داستان سننے اور دیکھنے کو ملیں گے۔ لیکن عالمی اداروں اور مہذب دنیا کی اس خاموشی نے بلوچوں پہ جبر کے مزید باب کھول دیے ہیں۔لہذا قابض ریاست پاکستان کے مظالم کو روکنے کے لیے عالمی ادارے واضح موقف اختیار کریں نہیں تو بلوچوں کی نسل کشی اور ظلم و جبر کا یہ سلسلہ مزید ابترصورتحال اختیار کریگی۔

Share This Article
Leave a Comment