انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک نئی رپورٹ میں سعودی عرب کے سرحدی محافظوں پر یمن کے ساتھ سرحد پر تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر قتل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینکڑوں افراد، جن میں اکثریت اُن ایتھوپیائی باشندوں کی ہے جو جنگ زدہ یمن کی سرحد عبور کر کے سعودی عرب پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔
تارکین وطن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے اعضا گولیاں لگنے سے شدید متاثر ہوئے جبکہ انھوں نے راستوں پر بہت سے تارکین وطن کی گولیوں سے چھلنی لاشیں دیکھی ہیں۔
سعودی عرب اس سے قبل اس نوعیت کے منظم قتل کے الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے ’دے فائرڈ آن اس لائیک رین‘ کے عنوان سے یہ رپورٹ شائع کی ہے۔
یہ رپورٹ تارکین وطن کی جانب سے ملنے والی شہادتوں پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ یمن کی سرحد پر سعودی پولیس اور فوجیوں نے ان پر گولیاں برسائیں اور کئی بار دھماکہ خیز ہتھیاروں سے انھیں نشانہ بنایا۔
بی بی سی نے کئی تارکین وطن سے الگ الگ رابطہ کیا جس میں انھوں نے رات کے اوقات میں سرحد عبور کرنے کے بارے میں بات کی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ بڑے گروپس کی شکل میں سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران یہ تارکین وطن فائرنگ کی زد میں آئے۔ ان گروپس میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔
یہ افراد تیل کی دولت سے مالا مال مملکت سعودی عرب میں کام کی تلاش میں سرکرداں تھے۔
ایک تارکین وطن کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے گذشتہ سال جولائی میں سرحد عبور کرنے کی کوشش کی تو ان کے گروپ میں موجود 45 تارکین وطن فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے۔