جان محمد دشتی بی این پی سے مستعفی ، بلوچستان نیشنل الائنس کی تشکیل کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
13 Min Read

بلوچ ادیب اور سابق بیوریو کریٹ جان محمد دشتی نے بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل) سے مستعفی ہوکر بلوچستان نیشنل الائنس کی تشکیل کا اعلان کردیاہے۔

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو دہائیوں سے جاری ایک خوفناک جنگ نے بلوچ خطّے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس طویل جنگ میں بلوچوں کی لاشیں گر رہی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے شہروں اور آبادیوں میں پناہ گزینوں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں لوگ لاپتہ کیے جاچکے ہیں یہاں تک کہ بلوچ مقتولین کی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ غیر ممالک میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس خطّے میں بلوچ تین ممالک میں منقسم ہیں۔ بلوچوں کی ایک کثیر آبادی سندھ اور پنجاب میں صدیوں سے مقیم ہے جن کی تعداد چار کروڑ سے زیادہ ہے۔ مشرقی بلوچستان میں ہماری آبادی ایک کروڑ 25 لاکھ ہے۔ افغانستان میں 75 لاکھ سے زیادہ بلوچ آبادی ہے جبکہ ایران میں یہ آبادی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہے۔ سلطنت عمان کی کل آبادی کا ایک تہائی بلوچوں پر مشتمل ہے۔ آٹھ کروڑ سے زیادہ آبادی کی یہ قوم اس وقت مشکل ترین دور سے گذر رہی ہے۔ ان گھمبیر حالات میں بلوچ سیاسی پارٹیاں خاموش ہیں کیونکہ بظاہر ان کے گروہی، قبائلی یا ذاتی مفادات اس بات کا تقاضہ کررہی ہیں کہ وہ ریاست اور بلوچوں کے درمیان امن کا راستہ ڈھونڈنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے رہیں۔

جان محمد دشتی کا کہنا تھا کہ اس پس منظر میں بلوچ دانشوروں، وکلا، ادیب، شعرا ، سماجی و سیاسی کارکنوں، محنت کشوں، کسانوں، طالب علموں اور پڑھے لکھے لوگوں کی یہ خواہش رہی ہے کہ بلوچستان میں ایک ایسی سیاسی جماعت کی تشکیل ہو جو قبائلی، گروہی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر بلوچ اور بلوچستان کے مسائل کو نہ صرف اجاگر کرے بلکہ پاکستانی حکمرانوں کو یہ باور کرا دے کہ جنگ اور قتل و غارت بلوچ مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ پاکستان کے جغرافیائی حدود میں بلوچ مسئلہ کا حل باہمی گفت و شنید سے ہی نکالا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں کے صلاح ومشورہ کے بعدہم اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ چونکہ ملک میں الیکشن قریب آرہے ہیں اس لئے اس مرحلے میں ایک سیاسی پارٹی کی تنظیم اورتشکیل کے لئے جومدت درکارہے وہ ہمیں میسرنہیں اس لئے ہم بلوچستان الائنس کے نام سے ایک وسیع اتحادقائم کررہے ہیں جوآنے والے انتخابات میں حصہ لے گی۔ انتخابات کے بعداسی اتحادکوسیاسی پارٹی کی شکل دی جاسکتی ہے۔

بلوچ ادیب نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچ مسئلہ کا حل ریاست پاکستان اور بلوچوں کے درمیان بامقصد، پُر وقار اور پُر اعتماد بات چیت میں مضمر ہے۔ اس لیے بلوچستان نیشنل الائنس ریاست پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بلوچ عمائدین ، اکابرین اور بلوچ سرمچاروں سے گفت و شنید کی ابتدا کرے تاکہ بلوچ قومی تشخص کی بقا اور باہمی سلامتی پر مبنی امن کی راہیں نکالی جاسکیں ۔ بلوچ سمجھتے ہیں کہ بلوچ ریاست کا پاکستان سے الحاق کے وقت جو شرائط طے ہوئے اور خان بلوچ کے ساتھ جو معاہدات ہوئے ریاست پاکستان نے ان پر عمل نہیں کیا۔ بلوچوں پر فوج کشی کی گئی۔ بلوچستان کے وسائل کو لوٹا گیا، بلوچی زبان کو ذریعہ تعلیم نہیں بنایا اور نہ ہی بلوچی کو بلوچستان کی سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ سیاسی طور پر بلوچ کو مفلوج رکھنے کے لیے پختون علاقوں کا ایک بڑا حصّہ بلوچوں کی مرضی اور منشا کے خلاف بلوچستان کے جغرافیائی حدود میں شامل کیے رکھا۔ پاکستان نے بلوچوں کی قومی تشخص کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے اور بلوچ کو اپنی ہی سرزمین میں اقلیت میں بدلنے کے لیے لاکھوں افغان مہاجرین کو بلوچستان میں آباد کرایا گیا اور گذشتہ 76 سالوں میں تین سال کی قلیل مدت کے علاوہ ریاست نے اپنے گماشتوں کے ذریعے بلوچوں پر حکومت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان نیشنل الائنس پاکستان کے آئین اور قانون کے دائرے میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں یقین رکھتا ہے۔ ہم بلوچوں کے معاشرتی ، معاشی اور سیاسی محکومی کے حوالے سے پاکستانی حکمرانوں سے گفت و شنید کے حامی ہیں۔ بلوچستان نیشنل الائنس یہ گردانتی ہے کہ بلوچستان میں کُشت وخون کا یہ سلسلہ بند ہو اور بلوچوں کو اپنی سرزمین میں باعزّت اور پُر امن زندگی گزارنے کا آئینی ، قانونی اور انسانی حقوق حاصل ہوں۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ با مقصد مذاکرات کی راہ اس وقت ہموار ہوسکتی ہے جب بلوچستان میں غیر نمائندہ قوتوں کو بلوچستان پر حکمرانی سے روکا جائے۔ بلوچوں کو آپس میں لڑانے اور قبائل کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند ہو۔ انتخابات میں سرکاری مداخلت کا خاتمہ ہو اور بلوچوں کو اپنے نمائندے چننے کا سیاسی اور آئینی اختیار حاصل ہو اور بلوچ ساحل و وسائل پر بلوچ اختیار اور بلوچستان پر بلوچوں کا حق حکمرانی مسلّم ہو۔

انہوںنے کہا کہ بلوچستان نیشنل الائنس ریاست پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ تمام بلوچ علاقے جو سندھ اور پنجاب کے صوبائی حدود میں شامل ہیں وہ بلوچستان میں شامل کیے جائیں جبکہ بلوچستان میں تمام پختون علاقے بلوچستان سے الگ کیے جائیں۔ بلوچستان نیشنل الائنس ان بلوچوں کی جو اس جنگ کے نتیجے میں بیرون ملک دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، باوقار، باحفاظت اور باعزّت وطن واپسی کی راہ ہموارکرنے کامطالبہ کرتی ہے۔

جان محمد دشتی کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن کے دوران ہزاروں خاندان اپنے اپنے علاقوں سے نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ بلوچستان نیشنل الائنس ایسے خاندانوں کی دوبارہ اپنے اپنے علاقوں اور گھروں میں آباد کرانے پر زور دیتی ہے، اور جو لوگ فوج سے مقابلے میں جان بحق ہوئے ہیں بلوچستان نیشنل الائنس ان کے خاندانوں کو تحفظ دینے اور انہیں آباد کاری کے لیے مناسب مدد فراہم کرنے پر زور دیتی ہے۔ ہزاروں بلوچ بغیر مقدمہ چلائے سرکاری اداروں کی تحویل میں ہیں۔ ہم ایسے افراد کی غیر قانونی حراست کو ختم کرنے اور انہیں آزاد کرنے پر زور دیتے ہیں۔ بلوچستان کے طول و عرض میں بہت سے مسلح جتھے وجود میں لائے جاچکے ہیں جو چوری، ڈکیتی، قتل اور اغوا برائے تاوان کے متعدد مقدمات میں ملوث ہیں۔ بلوچستان نیشنل الائنس ایسے تمام جتھوں کو ختم کرنے اور ان کے کارندوں کو ان کے کئے کی سزا دینے پر زور دیتی ہے۔

انہوںنے کہا کہ بلوچستان نیشنل الائنس پاکستان کے تمام اقوام کی زبانوں کو پاکستان کی قومی زبانیں قرار دیتی ہے اور ان کی ترقی و ترویج پر یقین رکھتی ہے۔ بی این اے بلوچی کو بلوچستان کی سرکاری زبان قرار دینے اور اسے ذریعہ تعلیم بنانے کا مطالبہ کرتی ہے اور بلوچی زبان و ادب سے وابستہ تمام اداروں اور اکیڈیمیز کو سرکاری مالی معاونت فراہم کرنے پر زور دیتی ہے۔ بلوچستان نیشنل الائنس بلوچستان میں نئے یونیورسٹیز ، کالجز اور اسکولز کھولنے اور نظام تعلیم کو کرپشن ، اقربا پروری اور انحطاط سے بچانے کے لیے دو ر رس تعلیمی اصلاحات پر زور دیتی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل الائنس انتظامی، سیاسی اور سماجی شعبوں میں افراتفری اور انتشار کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور سمجھتی ہے کہ بلوچستان میں ادارہ جاتی، انتظامی، سیاسی ، معاشرتی، امن و امان کے شعبوں میں وسیع، قابل عمل اور دور رس اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ایک خوشحال بلوچستان کے قیام کی راہ ہموار ہوسکے۔ بلوچستان میں حکومتی کرپشن اور اقربا پروری عروج پر ہے جو معاشرے کی جڑوں کو کھوکلا کررہی ہے، بی این اے ایسے دور رس قانونی اور انتظامی اقدامات پر یقین رکھتی ہے جس سے اس طرح کی برائیوں کا سدباب ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 30 لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہیں۔ بلوچ آبادی کا دو تہائی حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پرمجبورہے۔ بی این اے بلوچستان میں روزگار کے وسائل پیدا کرنے پر زور دیتی ہے۔ دستورمیں صوبوں کواپنے وسائل پراختیارنہیں اورنہ ہی ٹیکس collection کے اختیارات حاصل ہیں۔ حکومت پاکستان اپنی سالانہ آمدنی سے صوبوں کوفنڈزفراہم کرتی ہے جوناکافی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں صوبوں کومالی اختیاردیئے بغیرصوبوں میں پسماندگی اورغربت دورنہیں کی جاسکتی اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبوں کواپنے مالی وسائل پرقانونی اورآئینی اختیاردیاجائے۔

انہوں ے کہا کہ بلوچستان نیشنل الائنس جمہوری روایات اور پارلیمانی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اس لیے ہم ملک میں ہونے والے کسی بھی انتخابی عمل میں بھرپور حصّہ لیں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر بلوچ قوم دوست سیاسی پارٹیاں انتخابات سے علیحدگی کا راستہ اپنائیں تو جرائم پیشہ، مسلح گروہوں اور ڈرگ مافیا سے منسلک افراد بلوچوں کی نمائندگی کے دعوی دار بن کر بلوچ قومی مفادات کونقصان پہنچاسکتے ہیں۔

جان محمد دشتی نے کہا کہ بلوچستان نیشنل الائنس تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات کی حمایت کرتی ہے۔ ہم ایران اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ روابط کے حامی ہیں۔ حکومت پاکستان کو ان دونوں ممالک کے ساتھ سرحدی تجارت کو فروغ دینے کے لیے تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات کرنے چاہییں اور اس طرح کی سرحدی تجارت اور کاروبار کا اختیار بلوچستان کو ہونا چاہے تاکہ سرحدی تجارت سے حاصل ہونے والی ٹیکس کی رقم سے بلوچستان میں تعمیر و ترقی کی راہیں کھل سکیں۔ حکومت پاکستان کو ان دونوں ممالک کے ساتھ بلوچوں کی آمدو رفت کو آسان بنانے کے لیے سفارتی اقدامات اٹھانے چاہییں۔

پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آخرمیں کہا کہ ہم بلوچ دانشوروں، وکلا، ادبا، شعرا، سیاسی اور سماجی کارکنوں، طلبا، محنت کشوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ تمام لوگوں کو بلوچستان نیشنل الائنس میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم نے ایک نئی ابتدا کی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے طول و عرض میں ہر باشعور شخص ہماری اس کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گا اور بلوچ قومی بقا اور بلوچ روایات اور اقدار سے جڑے ایک خوشحال، پُر امن اور باوقار بلوچستان کے حصول میں سیاسی جدوجہد میں ہمارا ساتھ دے گا۔

Share This Article
Leave a Comment