بی ایل ایف نے ضلع کیچ وآواران میں فورسزپر 3 حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے دو علیحدہ پریس ریلیز میں ضلع کیچ و آواران میں پاکستانی فوج پر تین مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے کیچ کے مرکزی شہر تربت میں پاکستانی فوج کے کیمپ پر راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے۔

سرمچاروں نے نو اگست کو شام ساڑھے نو بجے آپسر آپدارک میں فوجی کیمپ پر راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس سے قابض فوج کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تربت شہر اور گردونواح میں کئی چیک پوسٹوں کے باوجود سرمچار بہترین حکمت عملی کے ذریعے  دشمن کے ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے قابض فوج حواس باختگی کا شکار ہے۔ اسی وجہ سے ہر حملے کے بعد اندھادھند فائرنگ اور عام لوگوں کو حراساں کیا جاتا ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے کل کیچ اور آواران میں پاکستانی فوج کے کیمپوں پر حملے کئے ہیں۔

سرمچاروں نے کل دس اگست کو شام کے ساڑھے سات بجے ضلع کیچ میں کولواہ کے علاقے شاہو باتیل میں فوجی کیمپ پر دو اطراف سے راکٹوں اور خودکار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی وقت سرمچاروں نے ضلع آواران میں کولواہ کنیچی میں قائم پاکستانی فوج کو کیمپ پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔

ان حملوں میں قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ یہ حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment