ساجد حسین کی شہادت کے بعد بلوچ مہاجرین کی زندگیاں شدید خطرات سے دو چار ہیں۔ سہراب بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read


بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چئیرمین سہراب بلوچ نے بلوچ صحافی اور دانشور ساجد حسین کی شہادت پہ اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ساجد حسین بلوچ ایک فرض شناس اور مخلص صحافی تھے جنہوں نے اپنی تحریروں میں بلوچ قوم کے دکھ تکلیفات کو بیان کیا۔انکی شہادت بلوچ قوم کے لئے ایک بڑا نقصان ہے۔

 
ساجد حسین کی گمشدگی اور لاش کی بر آمدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوئیڈن حکومت سیاسی پناہ دینے کے باوجود بھی ساجد حسین کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے جو انکے اداروں کی کارکردگی پہ سوالیہ نشان ہے۔اسکے ساتھ ساتھ ساجد حسین کی شہادت کے بعد بلوچ مہاجرین جو ریاست کے ظلم و جبر کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کہ یورپی ملکوں میں سیاسی پناہ لئے ہوئے ہیں انکی زندگیوں کے متعلق شدید خدشات جنم لے رہے ہیں۔


چئیرمین سہراب بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ریاستی ظلم و جبر گزشتہ سات عشروں سے جاری ہے جہاں مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کو ماورائے عدالت گرفتاری کے بعد قتل کیا جاتا ہے ۔ کئی بلوچ صحافی،دانشور، وکیل،ڈاکٹرز اور طالب علموں کو قوم کی آواز بننے پہ شہید کیا گیا اور انکے گرد گھیرا تنگ کرکے انہیں مہاجرین کی زندگی گزارنے پہ مجبور کیا گیا۔


ساجد حسین کے قتل سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بلوچ کہیں بھی محفوظ نہیں۔ہر جگہ بلوچ قوم کے فرزندوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
چئیرمین نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ دنیا کے مہذب ممالک کو چاہئیے کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں سیاسی پناہ لئے ہوئے مہاجرین کی حفاظت کے لئے اقدامات اٹھائیں۔اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے کی وجہ سے مہاجرین کے متعلق کئی خطرات اور خدشات جنم لے رہے ہیں۔
چئیرمین نے سوئیڈش حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ساجد حسین کے قتل کی شفاف تحقیقات کرکے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچ مہاجرین کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment