بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں فورسزپر حملہ،چھتر میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جبکہ تربت سے فورسز ہاتھوں ایک نوجوان جبری طورپرلاپتہ ہوگیا ہے۔
قلعہ عبداللہ میں میزئی اڈہ میں لیویز کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا۔
بم حملے میں رسالدار میجر نسیم سمیت 4 دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
لیویز ذرائع کے مطابق قلعہ عبداللہ میں گاڑی پر نامعلوم افراد نے ہینڈ گرنیڈ پھینکا۔
زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے مزید تفتیش کررہے ہیں۔
دوسری جانب نصیر آباد کے علاقے چھتر میں ایک قبیلے کے دو گرہوں میں جھگڑے کے دوران ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق چھتر کے علاقے شیرانی میں سیلابی پانی کے نکالنے پر دو گرپوں میں چھگڑے کے دوران فائرنگ سے ڈابونامی ایک شخص ہو گیا۔
لاش کوہسپتال منتقل کرنے اور ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گیا۔
مزید کارروائی انتظامیہ کر ررہی ہے۔
دریں اثناضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں پاکستانی سیکورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے ۔
لاپتہ کیےگئے نوجوان کی شناخت سترہ سالہ نوشاد ولد میاں داد بجیر کے نام سے ہوئی ہے جو تربت آپسر ڈاک بازار کا رہائشی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق نوشاد کی جبری گمشدگی کا واقعہ 31 جولائی 2023 کی شام کو اس وقت پیش آیا جب وہ مین بازار تربت سے اپنے گھر آپسر ڈاک بازار جارہا تھے جیسے پاکستانی سیکورٹی فورسز نے گرفتار کرکے جبری لاپتہ کردیا۔