پاکستان بار کونسل نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے خلاف کسی بھی اقدام کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔
بار کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وکلا برادری نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔
پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ ’وفاقی حکومت فوری طور پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل واپس لے۔‘
بار کا کہنا ہے کہ ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل سے خفیہ اداروں کو کسی بھی شہری کی حراست میں لینے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ ‘
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے خفیہ اداروں کو کسی عدالت کے سرچ وارنٹ کے بغیر کسی بھی شہری یا کسی بھی جگہ تلاشی لینے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
بار کا موقف ہے کہ ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ انصاف کی اقدار کے بھی خلاف ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم آئین پاکستان سے بھی متصادم ہے۔‘
اعلامیے میں توقع ظاہر کی گئی سینٹ کی قائمہ کمیٹی مجوزہ ترمیم کو مسترد کر دے گی۔