بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ہسپتال بولان میڈیکل کمپلیکس میں اصغرنامی شخص اپنی اہلیہ جوکہ حاملہ تھی کو ڈیلیوری کیلئے بی ایم سی ہسپتال کوئٹہ لے کر گیا جہاں عملہ نے خاتون کا چیک اپ کیا اور اہل خانہ کو بتلایا کہ بچہ نارمل ڈیلیوری سے ہوگا۔
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے گزر جانے کے بعد بچہ کی نارمل ڈیلیوری ہوئی مگر ماں کی طبیعت انتہائی ناساز ہوگئی اور کچھ دیر بعد بے ہوش ہونا شروع ہوگئی۔
مریضہ کے ہمراہ آئی ہوئی خواتین نے ڈاکٹر اور اسٹاف کو بتایا کہ مریضہ بار بار بے ہوش ہو رہی ہے اور طبیعت بہت خراب ہے اسکے ساتھ ساتھ مریضہ کا خون بھی نہیں رک رہا جس پر ڈاکٹر ہمراہ اسٹاف نے کہا کہ یہ نارمل کیس ہے اس میں یہ ہوتا ہے ۔بار بار ہمیں تنگ نہ کرے اور موبائل استعمال کرنے میں مصروف رہے۔
اسی دوران کہیں گھنٹے گزر گئے اور خاتون کی طبیعت غیر اور انتہائی نازک ہوگئی جس پر ایک ڈاکٹر نے آکر چیک کیا تو ایمرجنسی میں 5 تھیلے وائٹ بلڈ اور 3 تھیلے ریڈ بلڈ لانے کا کہا گیا جسے فوراً عزیزوں نے لاکر مریضہ کو خون لگوایا جس کے بعد مریضہ کی بگڑتی حالت کو دیکھ کر اسٹاف نے انہیں مریضہ کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنے کا کہا۔
رات 3 بجے جب اہلخانہ مریضہ کو دوسرے ہسپتال منتقل کر رہے تھے تو راستہ میں مریضہ انتقال کر گئی۔ اب خاتون کے شوہر اصغر خان نے سیکریٹری صحت اسفند یار خان کاکڑ سے بذریعہ درخواست استدعا کی ہے کہ مذکورہ اسٹاف کیخلاف غفلت برتنے پر محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔