سی پیک کے 10سالہ تقریبات سے حکومت بلوچستان کا احتجاجاََ بائیکاٹ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read
فوٹو: وزیر اعظم پاکستان آفس

بلوچستان کے کٹھ پتلی حکومی حلقوں سے یہ بیان سامنے آرہہی ہے کہ اسلام آباد میں پاکستان کے وفاقی حکومت کے زیراہتمام سی پیک کے 10سالہ تقریبات میں حکومت بلوچستان نے احتجاجاََبائیکاٹ کردیاہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک)کے 10 برس مکمل ہونے پر اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعظم پاکستان شہبا زشریف، چین کے نائب وزیراعظم ہی لی فینگ سمیت وفاقی وزراءودیگر نے شرکت کی تاہم حکومت بلوچستان کی جانب سے 10سالہ تقریبات میں شرکت سے احتجاجاََ بائیکاٹ کیاگیا ۔

بلوچستان کے حکومتی حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو کی جانب سے بلوچستان کے حصے کے فنڈز کی عدم فراہمی اور ناروا رویہ پر بارہا احتجاج کیاگیا اور گزشتہ دنوں گوادر میں تقاریب کا بھی بائیکاٹ کیاگیا ۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاق کے ذمے بلوچستان کے سیلاب زدگان کیلئے 10ارب امدادی رقم ،پی پی ایل کے ذمہ 35ارب اور این ایف سی ایوارڈ کے حصے کے 57ارب روپے وفاقی حکومت کے ذمے واجب الادا ہے ۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان نے ڈائریکٹر جنرل انڈسٹریز اینڈ کامرس محبوب حسن کو 90 دن کیلئے معطل کردیاہے۔

محکمہ سروسز اینڈجنرل ایڈمنسٹریشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے بلوچستان ایمپلائز ایپسنشی اینڈ ڈسپلسن ایکٹ 2011 کے سیکشن 6(1)کے تحت ڈائریکٹرجنرل انڈسٹریز اینڈ کامرس بی ایس ایس 19محبوب حسن کو 90دن کیلئے معطل کردیاہے اور اسپیشل سیکرٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس محمدفاروق کو اضافی چارج دیاگیاہے ۔

Share This Article
Leave a Comment