افغانستان: طالبان کے حملے میں 13 افغان فوجی ہلاک ہوگئے

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

افغانستان کے شمالی صوبے بلخ میں ایک جھڑپ کے دوران طالبان نے افغان فوج کے 13 سپاہیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صوبائی کونسلرز سخی لالا اور محمد امین دار صوفی کا کہنا تھا کہ طالبان نے رات کے اندھیرے میں بلخ کے ضلع زارے میں حملے کیا۔

نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ پکتیا میں تصادم کے دوران جوابی فائرنگ میں افغان سیکیورٹی فورسز نے طالبان کے کم ازکم 2 شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان کے شدت پسندوں کے ایک گروپ نے صوبائی دارالحکومت گردیز کے علاقے میں افغان فوج پر حملہ کیا تھا اور جوابی فائرنگ میں دو شدت پسندمارے گئے۔

خیال رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی کے باوجود شمالی افغانستان میں طالبان کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

دونوں فریقین امریکا کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے تحت قیدیوں کو رہا کررہے ہیں۔

طالبان نے دو روز قبل شمالی صوبے سمنگن میں کم ازکم مقامی فورسز کے کم ازکم 9 اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔

اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط کے بعد طالبان نے غیر ملکی فورسز پر حملے روک دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان بیرونی افواج کے مقابلے میں افغان فورسز کے خلاف حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے گزشتہ روز ہی طالبان پر زور دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں جنگ بندی قبول کریں جس کو طالبان نے مسترد کردیا تھا۔

واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ روز بھی 40 افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو رہا کردیا تھا۔

طالبان کے قطر کے دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں 40 قیدیوں کی رہائی کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ امارت اسلامی افغانستان نے آج دوپہر صوبہ قندوز میں کابل انتظامیہ کے 40 فوجیوں کو رہا کردیا ہے۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ اسلامی امارات قیدیوں کی رہائی کا عمل تیز تر کرنا چاہ رہا ہے تاکہ کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر قیدیوں کی جانوں کو بچایا جا سکے۔

دوسری جانب افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے کہا تھا کہ شدت پسند امریکا سے کیے گئے معاہدے کے تحت امن کے قیام، شہریوں کی حفاظت اور پرتشدد واقعات میں کمی میں ناکام ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 29 فروری سے 19 اپریل تک طالبان کے حملوں میں 337 شہری ہلاک، 452 زخمی اور 164 کو اغوا کر لیا گیا اور طالبان کو امن کے قیام کے اپنے دعوو¿ں سے قبل ان اقدامات کو ضرور دیکھ لینا چاہیے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کابل انتظامیہ کے فوجی اور ان کے غیر ملکی معاونین ہیں جو لوگوں کو مار رہے ہیں، گھروں پر بمباری اور راکٹ حملے کر رہے ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے طالبان اور دیگر شدت پسند گروپوں کو 2020 کی پہلی سہ ماہی میں 150 بچوں سمیت 533 شہریوں کی ہلاکت میں سے 52 فیصد کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں طالبان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔

امریکا نے معاہدے کے تحت وعدہ کیا تھا کہ اگلے سال جولائی تک امریکی اور دیگر غیر ملکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہوگا جبکہ طالبان کی جانب سے سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔

Share This Article
Leave a Comment