بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے مطابق گزشتہ 16 سال میں صحافتی اداروں سے وابستہ بلوچستان کے 41 لوگ مارے جا چکے ہیں۔ ان میں 30 صحافیوں اور ان کے رشتے داروں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی جبکہ گیارہ بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔
بی یو جے کے مطابق بلوچستان میں صحافی بہت مشکل حالات میں کام کرتے ہیں اور ان میں اخبارات اور ٹی وی چینل کے ضلعی نمائندوں کو عام طور پر تنخواہ نہیں دی جاتی اور صرف پریس کارڈ اور مائیک دے کر رپورٹنگ کرنے کو کہا جاتا ہے۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری منظور بلوچ نے بتایا کہ یونین ہلاک صحافیوں کے لواحقین کی ہر طرح سے قانونی مدد کرتی ہے اور ان کی بیوہ اور بچوں کیلئے ملازمت کی کوشش بھی کرتے ہیں۔کوئٹہ پریس کلب نے چھ سال قبل ‘شہدا ویلفیئر ٹرسٹ’ قائم کیا تھا۔اس ٹرسٹ سے شہدا کے پسماندگان کوعید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر کچھ مالی مدد کی جاتی ہے۔ تاہم یہ صرف کوئٹہ کے شہدا تک محدود ہے۔
خضدار اور تربت کا شماربلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں ہوتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں خضدار میں سات صحافیوں اور ایک سینئیر صحافی کے دو جوان بیٹوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ تربت میں چھ صحافیوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کی پاداش میں جانیں گنوائیں۔خضدار میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ مسلسل دھمکیوں کے بعد بہت سے صحافی علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے اور پریس کلب کو تالا پڑ چکا تھا۔
محکمہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر نور کھیتران کہتے ہیں کہ تخریب کاری کے واقعات میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کے لیے حکومت نے امدادی رقم مقرر کر رکھی ہے۔ ہلاک صحافیوں کے لیے بھی وہی طریقہ کار ہوتا ہے۔
بلوچستان میں صحافیوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی وجوہات بتاتے ہوئے منظور بلوچ کا کہنا ہے کہ جب حالات خراب ہوئے تو بلوچستان کے صحافیوں کو شورش زدہ ماحول میں رپورٹنگ کی تربیت نہیں تھی۔ ایسے میں وہ بعض معاملات کی حساسیت کا خیال نہیں رکھ پائے اور خود خبر بن گئے۔
وہ کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے بلوچستان کے کسی صحافی کے قاتل گرفتار ہوئے اور نہ ہی انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے۔ صحافی ارشاد مستوئی کے قتل کا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ عبدالواحد رئیسانی کے قتل کا ملزم بری ہو گیا جبکہ دیگر صحافیوں کو کس نے مارا یا کیوں مارا؟ آج تک اس حوالے سے مستند حقائق سامنے نہیں آ سکے۔
خضدار کے صحافی عبدالجبار بلوچ کے بقول شہر میں صحافیوں کے لیے حالات اب بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ وہ الزام عائد کرتے ہیں کہ بہت سے صحافیوں کی یا تو کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ہوتی ہے یا وہ صحافت کے ساتھ سرکاری نوکری بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعت سے وابستگی اور اس طرح جانبدارانہ صحافت ان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔
ان کا کہنا ہےکہ صحافی جب تک سیاسی جماعتوں اور سرکاری عہدوں سے الگ نہیں ہوں گے اس وقت تک بلوچستان میں صحافت آسان نہیں ہوگی۔
واضع رہے کہ بلوچستان میں جتنے بھی صحافیوں کو قتل کیا گیا ان کے قاتل تاحال گرفتار نہیں ہوسکے کیونکہ ان قتل میں براہ راست پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔