مصر کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کے کارکن اور محقق پیٹرک ذکی کو تین برس قید کی سزا سنائی ہے۔
ان پر مصر کی قبطی عیسائی اقلیت کے ساتھ امتیازی سلوک سے متعلق ایک مضمون میں مبینہ غلط معلومات پھیلانے کا الزام تھا۔
انسانی حقوق سے متعلق ایک مصری تنظیم انیشیٹو فار پرسنل رائٹس (ای آئی پی آر) کا کہنا ہے کہ منگل کے روز مصر کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کے معروف محقق پیٹرک ذکی کو جھوٹی خبریں پھیلانےکے جرم میں تین برس قید کی سزا سنائی۔
ای آئی پی آر کے سربراہ حسام بہجت نے کہا، انہیں اب گرفتار کر لیا گیا ہے اور جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنا بھی ممکن نہ تھا۔
ذکی کو فروری سن 2020 میں مصر کے دورے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ اٹلی کی یونیورسٹی آف بولوگنا میں گریجویٹ کے طالب علم تھے۔
ریاستی سکیورٹی عدالت میں مقدمے کی سماعت مکمل ہونے قبل وہ قاہرہ سے شمال میں 130 کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے آبائی شہر منصورہ میں تقریبا 22 ماہ تک حراست میں بھی رہے تھے۔