مقبوضہ بلوچستان میں پاکستان جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، رحیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے سابق مرکزی سیکریٹری جنرل، بی ایس او کے سابق چیئر مین،دانشور اور بلوچ آزادی پسند رہنما رحیم بلوچ ایڈوکیٹ نے سماجی رابطہ کے ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر اپنے ٹوئیٹس میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ

اپریل 2020 کی 26 تاریخ کو پروم، بلوچستان میں پاکستان آرمی نے چار بلوچ سرمچاروں کو قتل کیا اور عوام میں دہشت پھیلانے کے غرض سے ان کی لاشوں کو گاڑیوں کے ذریعے گھسیٹا۔ ایسی بربریت ایک جنگی جرم ہے یہ انسانی وقار اور مسلح تنازعات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

بلوچ رہنما نے دوسرے ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ“ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور دہشتگردی کے ارتکاب پر البغدادی کا پیچھا کرکے اس کو ہلاک اور اس کی خلافت کو تباہ کیا گیا۔ پاکستان وہی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب بلوچستان میں کر رہی ہے، بھارت اور افغانستان میں دہشتگردی کو برآمد کرتا ہے لیکن نیٹو اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے انکوسراہا جاتاہے۔
ٹوئیٹس کی اس تھریڈ کے تیسری ٹوئیٹ میں بلوچ رہنما نے کہا ہے کہ


اقوام متحدہ، نیٹو، امریکہ اور عالمی برادری کا یہ دہرا معیار افغانستان میں کسی طرح امن نہیں لائے گا بلکہ اس سے پاکستان آرمی کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ دہشتگردی کو بطور آلہ پالیسی استعمال کرنے میں وسعت لائے، دہشتگردی کو نہ صرف ہمسایہ ممالک میں بلکہ پوری دنیا میں برامد کرے۔

انہوں نے ایک اور ٹیوٹ میں کہا کہ
اقوام متحدہ، امریکہ اور نیٹو کا کیسا دہرا معیار ہے! انہوں نے اوسامہ کو پناہ دینے پر طالبان کی حکومت گرادی لیکن پاکستان کو کھربوں ڈالر سے نوازا جس نے نہ صرف اسی اوسامہ کو بلکہ تمام نامی گرامی عالمی و علاقائی لڑاکو جہادیوں بھی پناہ دی ہے۔

https://twitter.com/rahimbalochh/status/1255843106794156034?s=12
Share This Article
Leave a Comment