ادب اور انقلاب دو الگ اصطلاحات ہیں لیکن یہ دونوں اصطلاحات ایک معاشرے کی پیداوار ہوتے ہیں،ایک ہی ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اگرچہ انقلاب عوامی تحریک یا گوریلہ جنگ سے قائم رہتی ہے وہی دوسری طرف ادب معاشرے کے اندر انقلاب کو فروغ دیتا ہے، ایک نئی امید لا کھڑا کر دیتا ہے۔
ادب کی تعارف مختلف ادیب و شاعر اور مصنفین کے ہاں مختلف رہے ہیں، لیکن جس نقطہء نظر سے ادب کی تعریف کی گئی ہے وہ حالات کو دیکھ کر ہر کسی نے اپنا الگ تعریف رقم کی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ادب آئینہ کے ساتھ معاشرہ کی آکسیجن بھی ہے جس کے بغیر معاشرہ لا وارث نظر آتا ہے۔
ادب شاعری و نثر پر مشتمل ہے۔ نثرکے اصناف میں افسانہ، ڈرامہ، فلم، افسانہ، مکتوب نگاری، سفر نامہ، تاریخ اور داستان شامل ہیں۔ بلوچی زبان پر مشتمل ادب بلوچی ادب کہلاتا ہے، اور پھر اردو ادب، اسی طرح ہر قوم و ملک اور معاشرے کی الگ الگ ادب ہوتے ہیں جو اپنی اپنی تاریخی حقیقت پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں ادب کیاہمیت زیادہ رہی ہے چونکہ ادب لفظ و اصطلاحات کے ترتیب و تنظیم سے وجود میں آتا ہے اور ان لفظوں میں انسانی جبلتی خواہشات و افکار اور اظہارِ تشکر و قدردانی شامل ہوتے ہیں جو کہ ایک اجتماعی ہیئت کا ایک مخصوص نظامِ تمدن کا پروردہ ہوتا ہے۔ یہ مختلف ادوار میں مختلف نظریاتی و فلسفوں مثلاً روشن خیالی، نیوکلاسزم، رومانیت، ساختیات، نئی تنقید، مارکسزم، ماڈرنزم، پس ساختیات، ردتشکیل، وجودیت، اور دور حاضر، پوسٹ ماڈرنزم، تک جتنے ادوار و فلسفے اور رائیٹرز آئے تھے سب میں سے ہر کسی کا الگ فلسفہ تھا۔
کوئی وجدی تھا تو کوئی روشن خیال اور کوئی ماڈرنسٹ لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد نئے فلسفیوں نے جنم لیا جن میں سے ایک سارتر جن کی بدولت ہیڈیگر و ھسرل، کانٹ اور باقی فلسفیوں کے بعد ادب کو ایک نئی روح مل گئی۔
ایک نئی صبح طلوع ہوا،جب انہوں نے اپنی کتاب Being and Nothingness میں وجود اور عدم پر ایک نئی بحث چھیڑی تو مذہبی و لفٹسٹوں نے تنقید ان کو تنقید کا نشانہ بنادیا لیکن آج سارتر کے بغیر انسانی وجود پر بات کرنا کافی نہیں ہوگا۔ سارتر "فلسفہ وجودیت” کی بانی کہلاتے ہیں۔ انہوں نے جب الجزائر کی قومی تحریک کی حمایت کی تو ان کی گھر پر راکٹ برسائے گئے لیکن وہ مکمل پور پر الجزائری جنگ آزادی کی حمایت میں کھڑا تھا، انہیں کی سنہرے حروف خود اپنی گود میں لیتے ہیں۔
دوسری طرف ان کے دوست فینن کی مضامین بھی سارتر کی نقطہء نظر سے مختلف نہیں تھے کیونکہ وہ بھی سارتر کی طرح تجربات سے سیکھنے کو کہتے۔ جس طرح سارتر کا ماننا تھا کہ ہمیں زندگی کو سمجھنے کیلئے اپنے تجربات کو اہمیت دینا چاہیے ناکہ نظریات اور اعتقاد کو۔ ہسرل جو کی خود فینامینولوجی کی بانی ہے کے مطابق تخلیقات کی بنیاد تجربات سے شروع ہوتی ہے۔ فلسفہ وجودیت کا یہی نقطہء نظر ہے کہ انسانی تجربات ان کے نظریات اور اعتقاد سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
انسان آزاد ہے جنہیں کسی قوانین کی پابند نہیں کیا جاسکتا۔ آئندہ انہی فلسفے، وجودیت،پر مختلف دانشوروں نے بحث و مباحثے کئے تھے لیکن جو چیز اہمیت کے حامل رہے ہیں وہ خود انسانی خواہشات ہی ہیں۔ یہ خواہشات انسانی نفسیات، جسمانی، اجتماعی سوچ اور کہیں نہ کہیں انفرادی بھی ہوتے ہیں لیکن خواہشات جسمانی ہو یا نفسیاتی و اجتماعی انہیں پورا کرنا ہی ” آزادی” ہے۔
بقول روسو” انسان آزاد پیدا ہوا لیکن جہاں دیکھو وہ پابند سلاسل ہے۔” روسو انقلاب فرانس کی بانی ہے۔ انہوں نے ایک کتاب” دی پولیٹکل کنٹریکٹ” لکھ کر انسانی معاشرہ پر اپنی رائے دیتے ہیں کہ "غلام اپنی غلامی میں سب کچھ کھو بیٹھے ہیں، یہاں تک کہ غلامی سے نجات پانے کی خواہش بھی۔ انہیں اپنی غلامی ویسی ہی محبوب ہوتی ہے جیسے پولیسیس کے رفیقوں کو اپنی بہیمیت عزیز تھی۔” روسو کی کتاب میں سنہرے جملے یہی بتاتے ہیں کہ ہر چیز غلام سے جاتی ہے اگرچہ وہ ادب ہو یا خود قومی تحریک کیونکہ وہ خود بھیج دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو آللہ کی دربارہ کا ایک لنگڑا لونگڑا بناکر گھومتے ہیں۔
آج ہماری انقلاب اور ادب دونوں کو دو الگ طبقوں کے دو الگ چیزیں سمجھ کر ادیب و شاعر اور نام نہاد دانشور طبقے بیان بازیوں کے حصے بننے ہیں۔ انہیں بیوروکریسی کی میدان میں دیکھ کر حیرانگی تو ہوگی لیکن انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جو انسان ابھی تک کسی نہ کسی حد تک اپنے تخلیقات سے معاشرے کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں آجکل وہی لوگ انقلابی کو الگ خواہشات کا فرد سمجھ کر عجیب و غریب لیکچرز دیتے ہیں جن پر علمی و فلسفیانہ مباحث بے حد ضروری ہے۔
٭٭٭