نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام بلوچستان فوڈ اتھارٹی ہیڈ آفس کوئٹہ میں ایک خصوصی تربیتی سیشن کا اہتمام کیا گیا جس کا موضوع خوراک میں اضافی غذائی اجزاءکی آمیزش کا طریقہ کار، اس کی افادیت، اور عوام تک محفوظ خوراک کی رسائی تھا۔
ٹریننگ سیشن میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹرز اور نئے تعینات فیلڈ آفیسران اور لیبارٹری اسٹاف نے شرکت کی۔
ٹریننگ کی معاونت نیوٹریشن انٹرنیشنل کے بلوچستان پروگرام مینیجر قوی خان اچکزئی، زونل منیجر سید خلیل احمد اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نقیب اللہ ناصر نے کی۔
ٹریننگ کے شرکاکو آگاہی دیتے ہوئے قوی خان اچکزئی نے بتایا کہ حکومت پاکستان کے نیشنل نیوٹریشن سروے 2018 کے مطابق بلوچستان شدید غذائی قلت کا شکار ہے جس میں حاملہ خواتین اور بچوں میں فولاد کی کمی کی وجہ سے خون کی کمی، اور جوان اور بڑی عمر کے لوگوں میں وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہڈیوں کی کمزوری سامنے آئی ہے۔ انسانی جسم میں وٹامنز اور معدنیات کی کمی کو دور کرنے کے لیئے دنیا کے کئی ممالک میں فوڈ فورٹیفیکیشن کا عمل کیا جاتا ہے جس کے ذریعے سے خوراک کی غذائی افادیت کو بڑھایا جاتا ہے۔
انہوں نے مذید بتایا کہ نیوٹریشن انٹرنیشن نے اپنے فوڈ فورٹیفیکیشن پراجیکٹ کے تحت بلوچستان کی 25 آٹا ملوں اور 10 آٹا چکیوں کو آٹے میں وٹامنز شامل کرنے والی مائیکرو فیڈر مشینری بلا معاوضہ فراہم کر دی ہیں۔
نقیب اللہ ناصر نے شرکاءکو بتایا کہ بلوچستان میں دسمبر 2021 میں صوبائی اسمبلی نے فوڈ فورٹیفیکیشن کے قانون کی باقاعدہ منظوری دی ہے جس کے تحت آٹا ملوں اور چکیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ آٹے میں آئرن، زنک، فولک ایسڈ اور وٹامن بی-12 کی آمیزش کو یقینی بنائیں گے جس سے غذائی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
علاوہ ازیں نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زونل منیجر سید خلیل احمد نے ٹریننگ کے شرکاءکو فولادی آٹے کی تیاری کے تکنیکی مراحل سے آگاہ کیا اور کوالٹی کے معیار کو مستحکم رکھنے کے حوالے سے ٹریننگ کے شرکاءکا آگاہی فراہم کی۔