بلوچستان کے علاقے ژوب میں گذشتہ دنوں 12 جولائی کوپاکستانی فوج کی چھائونی پر حملہ اور 9 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعدفوج کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کوئٹہ پہنچ گئے ۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے آج کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا، جہاں انہیں ژوب میں حالیہ حملے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
آرمی چیف نے اپنے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے سی ایم ایچ کوئٹہ میں زخمی فوجیوں کی عیادت کی اوران کی خدمات اور ان کے عزم کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کو دستیاب محفوظ پناہ گاہوں اور کارروائی کی آزادی پر شدید تحفظات ہیں۔ توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کے مطابق اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کیخلاف تخریب کاری کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ پاکستان میں تخریب کاری کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی شمولیت تشویشناک ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے حملے ناقابل برداشت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے موثر جوابی کارروائی ہوگی۔ حملہ آوروں کیخلاف آپریشن بلاامتیاز جاری رہے گا اور مسلح افواج پاکستان سے تخریب کاری کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک آرام سے نہیں بیٹھے گی۔