ڈیرہ غازیخان سے تعلق رکھنے والے اسٹوڈنٹس رہنما اور ایکٹیوسٹ کامریڈ سعدیہ بلوچ جو بلوچوں کی ایک موثر آواز بھی ہیں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پوسٹ میں ڈیرہ غازیخان سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے عبدلستار بلوچ کے حوالے سے کہا ہے کہ بلوچستان کے بعد ڈی جی خان کے بلوچ بھی محفوظ نہیں ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ آئے روز معصوم بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کی نئی خبریں سوشل میڈیا پہ دیکھتے ہیں اور بلوچستان کے درد پر آہیں بھرتے ہیں۔مگر آج میرے اپنے شہر تونسہ، ڈیرہ غازی خان کے جانے مانے متحرک سیاسی نوجوان ، بلوچ راج کے ممبر عبدالستار بلوچ کو نقاب پوش اہلکاروں نے اٹھا لیا۔
سعدیہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے بعد اب ڈی جی خان کے بلوچ نوجوان بھی محفوظ نہیں رہے۔ ہر انسان دوست ، قوم دوست نوجوان بدترین ریاستی تعصب کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔یہ وہ نوجوان ہیں جو آفت زدہ حالات میں کوہ سلیمان میں زندگی کی واحد امید بنے۔ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں سیلاب کے کٹھن وقت میں مصیبت زدہ لوگوں کی ریسکیو و بحالی کیلئے بلوچ راج کے نوجوانوں کے ساتھ عبد الستار بلوچ بطور رضا کار پیش پیش رہے۔
انہوں نے کہا کہ آفت زدہ لوگ اپنے مسیحاؤں کیلئے خاموش نہیں رہیں گے۔کوہ سلیمان کے پہاڑ بھی انکی انسانی ہمدردی اور قوم دوستی کے گواہ ہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ عبدالستار بلوچ کو بازیاب کیا جائے۔معصوم لوگوں کو جبری گمشدہ کر کے انسانیت کا امتحان لینا بند کریں۔