روس کے جنگی نقصان کا ایک غیر جانبدارانہ تخمینہ یہ بتاتا ہے کہ یوکرین کے ساتھ جنگ میں روس کے پچاس ہزار سپاہی مارے جا چکے ہیں۔
روس کے دو آزاد اور غیر جانبداری کا دعوی کرنے والےمیڈیا اداروں میڈیا زونا اور میڈوزا نے جرمنی کی توبنگن یونیورسٹی کے ایک ڈیٹا سائینٹسٹ کی مدد سے روس کی حکومت کے فراہم کردہ اعدادو شمار کا تجزیہ کرکے یہ اعدادو شمار مرتب کئے ہیں۔ گوکہ کی روس کی حکومت یوکرین میں جاری جنگ کے جانی نقصان کے مکمل اعدادو شمار کی کسی خفیہ راز کی طرح حفاظت کر رہی ہے۔
یہ اعدادو شمار مرتب کرنے کے لئے خاندانوں کے افراد کی تعداد اور شرح اموات کے سرکاری ریکارڈ ز کی ان فہرستوں سے مدد لی گئی ہے، جن سے کوویڈ نائینٹین وبا کے دوران اموات کی تعداد کا اندازہ لگایا گیا تھا ۔ اس اندازے کے تحت پتہ چلایا گیا ہے کہ فروری 2022 سے لے کر مئی 2023 کے درمیانی عرصے میں50 سال سے کم عمر کے کتنے مزید مرد معمول سے زیادہ تعداد میں ہلاک ہوئے۔
واضح رہے کہ یوکرین اور روس دونوں ہی اپنی فوج کے جانی نقصان کے اعدادو شمار بر وقت جاری نہیں کرتے۔ روس نے اب تک صرف6ہزار فوجیوں کی اموات کا اعتراف کیا ہے۔ سماجی کارکن اور غیر جانبدار صحافیوں کا کہنا ہے کہ روسی ذرائع ابلاغ میں فوج کے جانی نقصان کی خبریں دبا دی جاتی ہیں۔ مرنے والوں کے اعدادو شمار مرتب کرنا ایک باغیانہ قدم بن چکا ہے اور جو ایسا کرتے ہیں، انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کے خلاف مجرمانہ الزامات میں مقدمات قائم کئے جاتے ہیں۔
اس کے باوجود روس کے دو غیر جانبدار ادارے میڈیا زونا اور بی بی سی کی رشئین سروس نے بعض رضاکاروں کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پوسٹنگز اورروس بھر میں قبرستانوں کی تصاویرکی مدد سےجنگ میں مرنے والوں کی تصدیق شدہ اموات کا ایک ڈیٹا بیس مرتب کیا ہے۔ جس میں اس سال 7 جولائی تک 27 ہزار 4 سو 23 روسی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔