جمعیت علما اسلام کے مرکزی رہنمااور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف آف ساراوان نواب اسلم رئیسانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے بلوچستان کی صورت اور حال دونوں خراب ہے،ژوب سے لیکر چمن تک،کچھی،جھالاوان ونوشکی میں فساد ہی فساد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی مالی بحران سے نکلنے کیلئے فنانشل مینجمنٹ کی ضرورت ہے،روزگار کیلئے سرکاری اور پرائیوٹ دونوں لازمی ہے لیکن بلوچستان میں پرائیوٹ سیکٹر ہے ہی نہیں۔ جس کی وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے بلوچستان میں جگہ جگہ فساد، کچھی،جھالاوان،نوشکی اورژوب سے لیکر چمن تک فساد ہی فساد ہے کسی بھی جگہ امن نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ بے روزگاری اتنی جلدی ختم نہیں ہوگی کسی بھی ملک میں سرکاری اور پرائیوٹ سطح پر ملازمت دی جاتی ہے لیکن بلوچستان میں پرائیوٹ شعبہ ہے ہی نہیں ضروری ہے کہ ایک مکمل فنانشل مینجمنٹ بنایاجائے۔کیونکہ اگر اسی طرح رہا تو تمام بجٹ تنخواہوں میں چلی جائے گی اور ترقیاتی مد میں بجٹ نہیں ہوگاوفاقی حکومت کی بھی مالی حالت کمزور ہے اور وزیراعظم کچکول لیکر مختلف ممالک کے پاس جارہے ہیں۔ فنانشل مینجمنٹ ملک کی ترقی وخوشحالی کیلئے لازمی ہے۔