بی ایل ایف نے ضلع آواران و ضلع کیچ میں 2 ریاستی ایجنٹوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے دو الگ الگ پریس ریلیز میں 2 ریاستی ایجنٹوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ضلع آواران اور ضلع کیچ میں پاکستانی فوج کے 2 ایجنٹوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے ضلع آواران میں مجید نامی ریاستی ایجنٹ کو گرفتار کرکے تفتیش اور اقبالِ جرم کے بعد سزائے موت دے دیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے مجید ولد عطا محمد سکنہ جھل جھاؤ سوڑ کو چھبیس جون کو گرفتار کیا۔ حراست میں دورانِ تفتیش اُس نے اقبال جرم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ دو ہزار سترہ سے پاکستانی فوج کا ایجنٹ ہے۔ اس نے سرمچاروں اور اُن کے ٹھکانوں کی نشاندہی، فوجی آپریشنوں، بلوچوں کے اغوا اور قتل جیسی سنگین جرائم میں پاکستانی فوج کا ساتھ دیا ہے۔ اس وقت وہ جھاؤ اور گرد و نواح میں ایک ریاستی ڈیتھ اسکواڈ چلا رہا تھا جس کی سربراہی نام نہاد وزیراعلیٰ بلوچستان کے بھائی جمیل کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج بلوچستان میں جنگی جرئم، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بلوچ نسل کشی میں مصروف ہے۔ انہی سنگین جرائم میں پاکستانی فوج کے ساتھ دینے کی جرم میں مجید کو گرفتاری اور اقبال جرم کے بعد سزائے موت دے دی گئی اور کل رات جھل جھاؤ گوہری میں اس کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا۔

میجر گہرام بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت آپسر میں چار جولائی کی رات کو ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) میں قابض فوج کی قائم کردہ ڈیتھ اسکواڈ کے کارندہ زُل خان ولد نور احمد ساکن شاپک کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا اور کلاشنکوف ضبط کرلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی مجرم زُل خان ولد نور احمد آئی ایس آئی کا ایک خاص کارندہ تھا جو فوجی ایما پر تربت ،شاپک ،سامی اور ملحقہ علاقوں میں نہتے بلوچوں کی شہادت ، اغوا اور چادرو چاردیواری کی پامالیوں میں ملوث تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دہشتگرد پاکستانی فوج کے ہمراہ بلوچ سرمچاروں کے خلاف کئی آپریشنوں میں شریکِ جرم تھا۔ انہوں نے دسمبر 2017 کو سامی کور میں سرمچاروں پر حملہ کیا جس میں ایک ساتھی زخمی ہوا تھا ، اپریل 2018 کو سامی عومری کہن میں ساتھیوں کی شہادت میں وہ براہ راست ملوث تھا ۔اسی طرح ستائیس فروری 2023 کی جھڑپ میں وہ اپنے ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ شریک تھا جس میں دو سرمچاروں شہید یحییٰ اور شہید شُعیب کی شہادت ہوئی۔ اس کے علاوہ وہ گوادر میں دو بلوچ خواتین کو تفتیش کی نام پر اغوا کرنے اور جبری لاپتہ افراد کی اہلخانوں کو مختلف حیلے بہانوں سے حراسان اور لاپتہ افراد کو قتل کرنے کی دھمکی دینے جیسے سنگین انسانیت سوز جرائم کا مرتکب تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ قابض فوج کے ہمراہ بلوچ عوام پر مظالم ڈھانے ، سماجی برائیوں میں ملوث ہونے اور مخبری کے جرم میں وہ ہمارے ٹارگٹ پر تھا۔گزشتہ شب بی ایل ایف کے سرمچاروں نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فائرنگ کرکے اُسے سزائے موت دے دی اور اسُکا کلاشنکوف بھی قبضے میں لے لی ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ریاستی دلال زُل خان کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے ۔ ریاستی جبر میں شریک اور قومی جنگِ آزادی کی راستے میں رکاوٹ بنے والی کسی بھی عناصر کو معاف نہیں کیا جائے گا ۔

Share This Article
Leave a Comment