مغربی کنارے پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج کاآپریشن مکمل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read
فوٹو: اے ایف پی

اسرائیلی فوجیوں نے منگل کے روز مغربی کنارے کے ایک پناہ گزین کیمپ سے مسلح فلسطینی گروپوں کیخلاف آپریشن مکمل کرکے انخلاء شروع کردیا ہے جب کہ پیر سے شروع ہونے والے ان کے چھاپے سے مرنے والوں کی تعداد 12 ہوگئ ہے۔ اور ایک سو کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کی وابستگی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ تمام جنگجو تھے، جب کہ عسکریت پسند گروپ کا دعوٰی ہے ، صرف پانچ افراد اسکے رکن تھے۔

وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے قریبی فوجی چوکی پر کہا کہ "ان لمحات میں ہم مشن کو مکمل کر رہے ہیں، اور میں کہہ سکتا ہوں کہ جنین میں ہماری جامع کارروائی صرف ایک مرتبہ ہی کے لئے نہیں ہے۔”

ایک سیکورٹی اہلکار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ہسپتال کے قریب لڑائی جاری رہی، جس سے فوجوں کی واپسی کا عمل پیچیدہ ہو رہا ہے۔

اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے جنین میں سینکڑوں اسرائیلی فوجی تعینات ہیں اور لڑائی کے باعث کم از کم 3000 فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑ کر انخلا پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے پیر کے روز جنین پناہ گزین کیمپ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا جسے گذشتہ 20 سالوں کا سب سے بڑا آپریشن کہا جا رہا ہے۔ اسرائیلی آپریشن کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کم از کم 11 فلسطینی ہلاک اور 100 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 20 کی حالت نازک ہے۔

اسرائیلی فوجیوں کا سامنا جنین بریگیڈز سے ہے، جو کہ مختلف فلسطینی ملیشیاؤں پر مشتمل یونٹ ہے اور شہر کے وسط میں قائم پناہ گزین کیمپ میں مقیم ہے۔

مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (الأونروا) کے مطابق اس کیمپ میں تقریباً چودہ ہزار افراد آدھے مربع کلومیٹر سے بھی کم رقبے والے علاقے میں رہتے ہیں۔ اب یہاں صرف لڑائی کا منظر ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس کا مقصد ’دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے‘ کو تباہ کرنا اور ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment