بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابقہ چیئرمین خلیل بلوچ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں فدائی سمیعہ قلندرانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کی تلاش میں موت کاانتخاب غلام قوموں کی حیات کاضامن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختیاری موت کافیصلہ فکر و نظریات سے لیس بہادراوروطن کےسچےعاشق کرسکتے ہیں۔
خلیل بلوچ نے مزید کہا کہ وطن کی شہزادی سمعیہ بلوچ انہی میں سے ایک تھیں جس نے مادروطن کی مٹی کی مہک نہ صرف محسوس کی بلکہ مٹی کی مہک پراپنی زندگی قربان کی اور امر ہوگئیں۔
واضع رہے کہ 24 جون کو بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں پاکستانی سیکورٹی فورسز پر ایک خاتون نے خودکش حملہ کیا تھا۔حملے کے نتیجے میں حواس باختہ فوج نے اندھا دھند فائرنگ کی جس سے سامنے آنے والی پولیس وین میں سوار ایک اہلکار ہلاک جبکہ 2 زخمی ہوگئے ۔
بعد ازاں اس حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک فدائی حملہ تھا جسے مجید بریگیڈ کے سمعیہ قلندارنی نے سرانجام دیا تھا۔
کہا جارہا ہے کہ اس حملے میں متعدداہلکارہلاک وزخمی ہوگئے لیکن فوج نے بروقت تمام ایریا کو سیل کرکے اصل خبر کو چھپایا اورمیڈیا کوگمراہ کیاگیا کہ خودکش حملہ پولیس کی گاڑی پرہوا ہے جس سے ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔