بلوچستان کے علاقے اوستہ محمد اور کوئٹہ میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں 2افراد ہلاک ہوگئے ۔
بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں رہزنوں کی فائرنگ سے شہری کی ہلاکت کے بعد لواحقین نے ہزارگنجی روڈ پر لاش رکھ کر دھرنا دےدیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش میں مزاحمت کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے غلام فاروق ہلاک ہوگیا۔
لواحقین نے ٹینٹ لگا کر روڈ بند کرکے احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا۔
اس موقع پر مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ عوام چوروں کے رحم کرم پر ہے، پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے۔
مظاہرین نے لاش کے ہمراہ دھرنا دیتے ہوئے حکومت اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ چوروں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب اوستہ محمد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔
گزشتہ شب سٹی تھانہ کے حدود گوٹھ غلام جان بخشلانی میں صبح چار بجے بندہ علی جمالی کے گھر میں فائرنگ کرکے بندہ علی کا نوجوان بیٹا 18سالہ محمد نوجوان محمد یونس جو کہ سویا ہوا تھا اسے قتل کر دیا۔
اطلاع ملتے ہیں پولیس موقع پر پہنچ گیا۔
نعش قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے بعد ورثہ کے حوالے کر دیا۔
ملزمان کی تلاش شروع کر دی بتایا جاتا ہے کہ حملہ آور چانڈیو ہے ان کی پرانی رنجش بتائی جاتی ہے۔