یوکرین جنگ میں دونوں افواج کو’بھاری جانی نقصان‘ کا سامنا ہے، رپورٹ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

برطانوی انٹيلی جنس کی ايک رپورٹ کے مطابق يوکرينی اور روسی افواج دونوں کو بھاری جانی نقصان ہو رہا ہے۔ روسی فوج پيش قدمی کی کوششوں ميں ہے جبکہ يوکرينی فوج وہ علاقے دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے، جن پر ماسکو کے دستے قابض ہیں۔

روسی یوکرینی جنگ میں اگلے محاذوں پر شدید لڑائی کے باعث ماسکو اور کییف دونوں کی افواج کو بھاری جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بات اتوار 18 جون کے روز برطانوی انٹیلی جنس کی ایک نئی رپورٹ میں بتائی گئی۔

دوسری طرف یوکرینی دستے، جنہیں مسلسل چھوٹی جنگی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، انہیں بھی جانی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ برٹش انٹیلی جنس کی اس رپورٹ کے مطابق روسی یوکرینی جنگ میں اس وقت شدید ترین لڑائی ژاپوریژیا اور مغربی ڈونیٹسک کے خطے کے ساتھ ساتھ باخموت شہر کے قریب ہو رہی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق روسی دستوں کو ان دنوں یوکرینی شہر باخموت پر قبضے کے لیے مارچ میں ہونے والی شدید لڑائی کے بعد سے اب تک کے سب سے زیادہ جانی نقصانات کا سامنا ہے۔

یوکرینی فوج نے اتوار کی صبح بتايا کہ گزشتہ چوبيس گھنٹوں کے دوران روسی افواج نے یوکرین پر 43 فضائی حملے کیے، چار میزائل داغے اور راکٹ لانچروں کی مدد سے کیے گئے 51 دیگر حملے ان کے علاوہ تھے۔

یوکرینی فوج کے جنرل اسٹاف کے مطابق ماسکو کی افواج يوکرين کے صنعتی مشرقی حصے ميں پيش قدمی کرنے کی نیت سے اپنے حملے جاری رکھے ہوئی ہيں۔

بتایا گیا ہے کہ باخموت، اوديوکا، مارنکا اور لائيمن کے علاقوں ميں کم از کم 26 مقامات محاذ جنگ بنے ہوئے ہيں۔

Share This Article
Leave a Comment