بلوچ یکجہتی کمیٹی ڈیرہ غازیخان کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ راشد بلوچ کی جبری گمشدگی انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ راشد بلوچ اسلام آباد میں مزدوری کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا تھا۔ ایک ہفتے سے وہ چھٹیوں پر ڈیرہ غازیخان آ ہوئے تھے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی ہمیشہ سے بلوچ طالبعلموں، مزدوروں اور خواتین کو جبری گمشدگی کا شکار بنا کر بعد میں ان پر من گھڑت ایف آئی آردرج کرتی ہے۔ حفیظ بلوچ ہو یا ماہل بلوچ تمام واقعات میں سی ٹی ڈی کے الزامات جھوٹے نکلے ہیں۔ سی ٹی ڈی اپنے روئیوں اور کارروائیوں سے ایک بلوچ دشمن سرکاری ادارہ بن چکا ہے جو آئے روز لوگوں لاپتہ کر رہی ہے اور کئیں فیک انکاؤنٹر کر رہا ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں ترجمان نے کہا کہ ہم تمام سرکاری اداروں سے التجا کرتے ہیں کہ وہ راشد بلوچ پر سی ٹی ڈی کے من گھڑت الزامات واپس لیں اور راشد بلوچ کو جلد از جلد منظر عام پر لائیں۔ راشد بلوچ کی جبری گمشدگی سے ان کا خاندان کرب میں مبتلا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم بلوچ قوم سے دست بندانہ التجا کرتے ہیں کہ وہ راشد بلوچ کے منظر عام پر لانے کے لیے جدوجہد کریں۔