افسانہ رنگ
چار کم عمر دوست تھے جو ہمیشہ ساتھ رہتے،گھر سے اسکول، اسکول سے گھر ،پھر کھیل کا میدان ہر جگہ ساتھ رہتے اور علاقے کے لوگ ان کی دوستی کی مثالیں پیش کرتے اور یہ مثال ان کے مہر و محبت اور مفاد پرستانہ دنیا میں ایک دوسرے کے لئے قربانی کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے دی جاتی۔ کچھ لوگ ان سے حسد کرتے، انہیں لڑانے کی کوشش بھی کرتے لیکن ان چاروں کی دوستی کا ایک اصول ہمیشہ رہتا کہ کوئی بھی ہمارے خلاف کسی دوست کے سامنے ایسی بات کہیں جس سے دوستی ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہو یا ایک دوسرے کے لئے بدگمانی پیدا ہونے کا امکان ہو تو اس کا ذکر لازم اپنے دوستوں سے کرینگے تاکہ مخالف لوگوں کو موقع ہی نہ ملیں کہ وہ ہمارے درمیان دراڑ پیدا کرسکیں۔نام ان کے مہراب، جاڑو،شہک اور باہڑ تھے۔ان دوستوں میں جاڑو چڑ چڑا جبکہ شہک ہنس مکھ ،کھیلوں کا شوقین ،قوم دوست اسکے علاوہ جستجو ،لگن،سیکھنے کی خواہش اور کچھ کرنے کا حوصلہ اسکی خوبیاں تھی جو اسے چاروں دوستوں سے ممتاز بناتا ہے جبکہ باہڑ اور مہراب اپنی دنیا میں مگن اور دنیا کے اتار چڑھاو سے انہیں کوئی غرض نہیں تھا۔ دنیا کیا سوچتی ہے؟ دنیا کیا کررہی ہے؟کوئی کیا سوچتا ہے؟ بس اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتے،گھومتے اور شرارتیں کرتے۔
ان دوستوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور کالج میں داخلہ لیا،اگر دیکھا جائے تو کالج کا دور شباب کا ابتدائی دور ہوتا ہے اور غلام قوم کے نوجوانوں کے لئے شباب کا دور دیگر قوموں کے نوجوانوں کے لئے زیادہ اہم ہوتا ہے کیونکہ نوجوان ہی کچھ نیا کرنے اور قوموں کی تقدیر بدلنے کا کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک دن شہک فیس بک پر کچھ دیکھ رہا تھا کہ اسکے سامنے دو لاشوں کی تصاویر سامنے آئی جو بلوچ سیاست سے منسلک آزادی پسند نوجوانوں کی تھی، ان تصویروں کو دیکھ کر اسکے جسم کا ہر حصہ جیسے ابھی بارود بن کر دشمن کو بھسم کردیں گا۔ وہ بیس منٹ تک ان تصویروں کو دیکھتا رہا اور سوچتا گیا،سوچ میں غرق ,چہرے میں پریشانی کے آثار لئے وہ گھر گیا اور شام کو مہراب کے ساتھ کھیل کے میدان میں چلا گیا۔جب وہ کھیل سے فارغ ہوئے تو اس نے اپنے تینوں دوستوں کو بھلا کر مسخ لاشیں دکھائی اور ان کے متعلق کچھ بتایا اور ان سے اپنی خواہش اور مقصد کا برملا اظہار کیا لیکن دوستوں نے انکار کردیا کہ وہ اس کام میں ساتھ نہیں دینگے لیکن شہک ڈٹ گیا اور کہا کہ وہ ضرور کسی تنظیم کو جوائن کرکے اس جنگ میں حصہ لیں گا اور اپنی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے نکالنے میں کردار ادا کریں گا۔
وہ دوستوں کو سمجھاتا رہا لیکن دوست ماننے کو تیار نہیں ہوئے لیکن شہک نے کسی تنظیمی ساتھی سے رابطہ کرکے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا اور سیاست سے لیکر جنگی عمل میں حصہ لیا۔ جب اس نے سرگرمیوں کا آغاز شروع کیا تو دوستوں کو کم وقت دینے لگا اور اپنی تمام سرگرمیاں اپنے مقصد کے لئے وقف کردی ۔اس کے دوست سمجھے کہ شہک کی بات ہم نے نہیں مانی اس لئے وہ ہم سے ناراض ہے ۔کچھ عرصہ شہری سرگرمیاں انجام دینے کے بعد اس نے پہاڑوں کا رخ اختیار کیا اور اپنی قابلیت اور مخلصی سے تمام دوستوں کا ہر دلعزیز بن گیا۔جب ایک دو مہینے ان تینوں دوستوں کی ملاقات شہک سے نہیں ہوئی تو وہ پریشان ہوئے،اسکے گھر گئے لیکن اسکے بارے میں انہیں خاص اطلاع نہیں ملی بس اسکے بھائیوں سے پتہ چلا کہ وہ روزگار کرنے کے لئے خلیجی ممالک گیا ہے۔ انہوں نے شہک کا نمبر لیا لیکن وہ اکثر آف لائن رہتا اس لئے ان کی بات بھی نہ ہوسکی۔ جاڑو اکثر پریشان رہتا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ شہک کے دور جانے سے اس کے جسم کا اہم حصہ کمزور ہوچکا ہے۔شہک کے چلے جانے کے بعد دوستوں کی سوچ اور عمل میں تبدیلی پیدا ہوئی لیکن وہ حالات کی وجہ سے اس بات کا ذکر کرنے سے قاصر رہے۔
ایک دن جاڑو کو اطلاع ملی کہ ایک فوجی آپریشن میں شہک اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوگیا ہے اس نے دشمن فوج کے سامنے بہادری کی مثال پیش کرتے ہوئے اپنے کئی ساتھیوں کو بحفاظت نکالنے میں کردار ادا کیا۔ اس واقعہ کے بعد جاڑو نے اپنے باقی ماندہ دوستوں کو تیار کیا کہ وہ اپنے دوست کے مشن کو ہر صورت آگے بڑھائیں گے اور جو مثال ان کے دوست نے قربانی کے ذریعے پیش کیا جن سے ان کے سر ہمیشہ بلند رہیں گے جنہوں نے ان کو انسان بنانے کا راستہ فراہم کیا۔جاڑو ,مہراب اور باہڑ تینوں نے کوشش اور جدوجہد سے خفیہ طور پر مسلح تنظیموں کو جوائن کیا اور اپنی قومی ذمہ داریوں کو شہری گوریلا بن کر پورا کرنے کی کوشش کی ۔
ان کے مسلح تنظیموں کو جوائن کرنے اور علاقے میں اچھی شہرت رکھنے کی وجہ سے کئی نوجوان ان کے ساتھی بن گئے اور مختلف طریقہ کار کے مطابق جہد کا حصہ بن گئے۔ شہک کی سوچ اور جدوجہد رنگ لائی کیونکہ یہ بلوچوں کی وہ آبادی تھی جہاں لوگ اپنے بنیادی حق کی بات کرنے سے ڈرتے تھے آج وہاں کئی نوجوان موجودہ دور کی سب سے متحرک سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ سچ کہتے ہیں سیانے لوگ کہ نظریہ اور فکر سے جڑی ہوئی دوستی خونی رشتوں سے زیادہ مقدس اور افضل ہے بس انسان کے سوچ کو مثبت ہونا چاہیئے۔
***