بلوچستان کے ضلع دکی میں28روز قبل مقامی کوئلہ کان میں سیلابی ریلہ داخل ہونے کے باعث کوئلہ کان دب کر بیٹھ گئی تھی جس میں دو کانکن پھنس کر اندر رہ گئے تھے۔
کوئلہ کان کے اندر پھنسے ہوئے مزدوروں کو ریسکیو کرنے کیلئے مقامی مزدوروں، ایف سی اور محکمہ مائنز نے مشترکہ ریسکیو اپریشن شروع کردیا تھا جو تاحال جاری ہے۔ لیکن آج اٹھائیس روز گزرنے کے بعد بھی تاحال پھنسے ہوئے دو کانکنوں کو ریسکیو نہیں کیا جاسکا۔
مقامی مزدوروں نے یونیورسل نیوز ایجنسی کو بتایا کہ متاثرہ کوئلہ کان کی گہرائی تقریبا ایک ہزار فٹ ہے جس میں سے اب تک تقریبا سات سو پچاس فٹ کی گہرائی کلئیر کردی گئی۔ جبکہ باقی ماندہ ایریا کو کلئیر کرنے کیلئے مقامی مزدور اپنی مدد اپ کے تحت کام کررہے ہیں۔
مقامی مزدوروں کا کہنا تھا کہ متاثرہ کوئلہ کان کے قریب موجود دونوں سائیڈوں کے کوئلہ کان بھی پانی بھر جانے کے باعث دب کر بیٹھ چکے ہیں۔ اس وجہ سے ریسکیو کے عمل میں شدید دشواری ہے۔