بلوچستان بھر کی طرح ضلع کچھی گزشتہ سال کی طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال سے بہت بڑا متاثر ہوا ہے جبکہ گزشتہ ماہ کی ہونے والی بارشوں اور ڑالہ باری سے ضلع بھر مچھ ڈھاڈر بھاگ سنی شوران میں مچھروں کی یلغار نے ملیریا اور ٹائفائیڈ کے وبائی امراض نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور خاص کر بچوں اور بزرگوں میں بیماریاں تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں۔
وبائی امراض ضلع کے دہی علاقوں میں ہر دوسرے شخص میں بہت تیزی کے ساتھ لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ اب تک ضلع بھر میں ایک ہزار کے قریب مرد خواتین بچوں کو ملیریا ٹائفائیڈ جیسی بیماریاں پائی گئی ہیں۔
زیادہ تر لوگوں میں ملیریا بخار کے ساتھ ہی ٹائفائیڈ بخار بھی پایا جا رہا ہے جس سے مریض کی حالت انتہائی خراب ہونے کے باعث بیشتر دیہاتوں کے لوگ سندھ کے ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔
محکمہ صحت سمیت صحت سے منسلک دیگر اداروں کے پاس ان وبائی امراض کی روک تھام کے لئیے ادوایات کی کمی اور ٹیسٹ کٹس نہ ہونے کی وجہ سے بروقت بیماری کی تشخیص نہ ہونے سے عوام نے پرائیویٹ ہسپتالوں اور ضلع و صوبے سے باہر علاج معالجہ کروانے پر مجبور ہیں محکمہ صحت کی طرف سے ضلع کچھی میں نہ مچھر مار اسپرے اور مچھر دانیاں لوگوں کو فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
مچھروں کے یلغار میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس سے ضلع کچھی بھر میں وبائی امراض تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جو جانی نقصان کا اندیشہ بھی ہوسکتا ہے ۔