بولان: کچھی میں ملیریا اور ٹائیفائیڈ تیزی سے پھیلنے لگا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان بھر کی طرح ضلع کچھی گزشتہ سال کی طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال سے بہت بڑا متاثر ہوا ہے جبکہ گزشتہ ماہ کی ہونے والی بارشوں اور ڑالہ باری سے ضلع بھر مچھ ڈھاڈر بھاگ سنی شوران میں مچھروں کی یلغار نے ملیریا اور ٹائفائیڈ کے وبائی امراض نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور خاص کر بچوں اور بزرگوں میں بیماریاں تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں۔

وبائی امراض ضلع کے دہی علاقوں میں ہر دوسرے شخص میں بہت تیزی کے ساتھ لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ اب تک ضلع بھر میں ایک ہزار کے قریب مرد خواتین بچوں کو ملیریا ٹائفائیڈ جیسی بیماریاں پائی گئی ہیں۔

زیادہ تر لوگوں میں ملیریا بخار کے ساتھ ہی ٹائفائیڈ بخار بھی پایا جا رہا ہے جس سے مریض کی حالت انتہائی خراب ہونے کے باعث بیشتر دیہاتوں کے لوگ سندھ کے ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔

محکمہ صحت سمیت صحت سے منسلک دیگر اداروں کے پاس ان وبائی امراض کی روک تھام کے لئیے ادوایات کی کمی اور ٹیسٹ کٹس نہ ہونے کی وجہ سے بروقت بیماری کی تشخیص نہ ہونے سے عوام نے پرائیویٹ ہسپتالوں اور ضلع و صوبے سے باہر علاج معالجہ کروانے پر مجبور ہیں محکمہ صحت کی طرف سے ضلع کچھی میں نہ مچھر مار اسپرے اور مچھر دانیاں لوگوں کو فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

مچھروں کے یلغار میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس سے ضلع کچھی بھر میں وبائی امراض تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جو جانی نقصان کا اندیشہ بھی ہوسکتا ہے ۔

Share This Article
Leave a Comment