بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں آسکانی بازار سے پاکستانی فوج نے پیر اور منگل کی درمیانی شب سہہ پہر تقریباً دو بجے ایک گھر پرچھاپہ مار کر خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر شبیر بلوچ ولد بشیر نامی ایک نوجوان کوحراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ۔
لاپتہ شبیر کی فیملی نے اس کی جبری گمشدگی کی تصدیق کی ہے ۔
اس سلسلے میں لاپتہ شبیر کی ہمشیرہ نے سوشل میڈیا پر ایک آڈیو جاری کی ہے جس میں انہوں کہا کہ گذشتہ رات فورسز نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارا،بھائی کوشدید تشددکانشانہ بنایا جس سے وہ بے ہوش گئی اور پھرفورسز انہیںگھسیٹ کرلے گئے ۔
انھوں نے کہا کہ جب میں نے پوچھا کہ کیوں میرے بھائی کواس طرح تشدد کرکے لے جا رہے ہو تو انھوں نے مجھے مارا پیٹھا اور گولیاں بھی چلائیں ۔
انھوں نے سول سوسائٹی انسانی حقوق کے اداروں سمیت عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ان کی آواز بنیں اور بھائی کو منظر عام پر لانے کیلئے ریلی اور احتجاج کا حصہ بنیں تاکہ انھیں فورسز جعلی مقابلے میں مار نہ دیں ۔