آئندہ 5 سال ریکارڈ گرم ترین سال ہونگے،عالمی تنظیم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

موسمیات سے متعلق عالمی تنظیم ڈبلیو ایم او نے خبردار کیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے بڑے پیمانے پر اخراج اور موسموں کے قدرتی نظام’’ ایل نینو‘‘ کے زیر اثر اگلے پانچ سال گرم ترین برسوں کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایم او کے بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 2023 سے 2027 کے دوران کم از کم ایک سال اور یہ پورا عرصہ درجہ حرارت کی عالمی سالانہ اوسط کے ریکارڈ پر سب سے زیادہ گرم ثابت ہو گا۔

اقوام متحدہ کے اس عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ اس بات کا 66 فی صد امکان ہے کہ پانچ برس کی اس مدت کے دوران کم از کم ایک سال ایسا بھی ہو گا جس میں درجہ حرارت صنعتی دور کے آغاز سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں ڈیڑھ درجے سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو گا۔

یاد رہے کہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی بنیاد صنعتی دور کے آغاز کے ساتھ رکھ دی گئی تھی۔ کیونکہ کارخانوں کی چمنیوں سے خارج ہونے والی کاربن گیسوں نے کرہ فضائی بلندی پر ایک تہہ کی شکل میں جمع ہونا شروع کر دیا تھا۔ جیسے جیسے صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہوئی اور دنیا بھر کی سٹرکوں پر کروڑوں گاڑیاں دوڑنا شروع ہوئیں تو ان کے سائلنسرز سے خارج ہونے والی کاربن گیسیں بھی اس تہہ کو مزید مضبوط بنانے لگیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دن کے وقت سورج کی حرارت زمین کو گرم کرتی ہے لیکن رات کے وقت زمین میں جذب ہونے والی یہ حرارت واپس خلا میں لوٹ جاتی ہے۔ یہ قدرتی عمل زمین پر موسموں کا توازن قائم رکھتا ہے۔ لیکن کرہ فضائی میں جمع ہونے والی کاربن گیسوں کی موٹی تہہ زمین کی حرارت کو واپس جانے سے روک دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment