لاپتہ افراد کمیشن کاراشد کی والدہ کو تضحیک کا نشانہ بنانا تشویشناک ہے،پانک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بی این ایم کے ہیومن رائٹس ادارہ پانک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ ایک بیان میں لکھا ہے کہ کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے کمیشن میں راشد کی والدہ کی حالت زار دل دہلانے سے کم نہیں۔ راشد کے کیس کی کارروائی کے دوران، جج فضل الرحمان نے تسلی اور مدد فراہم کرنے کے بجائے راشد کی والدہ کو ناقابل تصور تذلیل اور تضحیک کا نشانہ بنایا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم بلوچستان میں لاپتہ افراد کے کمیشن کے اندر جج فضل الرحمان کے ہولناک رویے سے سخت پریشان ہیں۔ یہ واقعہ ان بلوچ ماؤں کے حقوق کے لیے احتساب اور احترام کی اشد ضرورت کو اجاگر کرتا ہے جنہوں نے بے پناہ مصائب برداشت کیے ہیں۔ جج فضل الرحمان کا واقعہ جس نے اپنے بیٹے کی گمشدگی کے مقدمے کی کارروائی کے دوران ایک غمزدہ ماں کو تضحیک کا نشانہ بنایا، انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اس طرح کے قابل مذمت رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ لاپتہ افراد کے کمیشن میں فضل الرحمان جیسے ججوں کی تقرری نہ صرف استثنیٰ کے کلچر کو برقرار رکھتی ہے بلکہ انصاف کے لیے کمٹمنٹ کی کمی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جبری گمشدگیوں کو طنز اور طعنہ نہیں بلکہ ہمدردی اور حل کے ساتھ ملنا چاہیے۔ ہائی کورٹ سے فضل الرحمان جیسے فوجی ججوں تک مقدمات بھیج کر حکام لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو ان کے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انصاف کے حق سے مؤثر طریقے سے انکار کر رہے ہیں۔ برخاستگی کا یہ جان بوجھ کر عمل ان غمزدہ خاندانوں کے پہلے سے ہی گہرے زخموں کی توہین کرتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment