پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مجھ سے خوفزدہ ہے اور اسے الیکشن میں شکست فاش کا ڈر ہے۔
برطانوی نیوز چینل سکائی نیوز کو رہائی کے بعد دیے گئے ایک انٹرویو میں پی ٹی آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت ملکی تاریخ کی سب سے کمزور جمہوریت ہے اور ایسے میں امید صرف عدلیہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے مجھے ایسے پکڑا کیا جیسے میں کوئی دہشت گرد ہوں۔
انھوں نے ایک بار پھر پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’مھے آرمی چیف کے حکم پر اغوا کیا گیا۔‘
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے القادر ٹرسٹ کرپشن کیس سمیت دیگر مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
عمران خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا منصوبہ ہے کہ مجھے اورمیری جماعت کو انتخابات سے باہر کر دیا جائے۔
کس ملک میں سب سے بڑی جماعت کی اعلیٰ قیادت کو اس طرح پکڑا جاتا یا نظر بند کیا جاتا ہے۔
لاہور سے وڈیو لنک کے ذریعے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے ایک بار پھر فوج پر تنقید کی اور کہا کہ ’آئی ایس پی آرجب آپ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب سے میں نے ملک کا سر دنیا میں اوپر کیا اور ملک کو عزت دلائی۔‘
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے ساری جگہ اپنی فوج کے امیج کو اوپر کیا۔ میرے دور حکومت میں فوج کو لوگ پسند کرتے تھے اور پھر ایک آرمی چیف نے میری پیٹھ میں چاقو مارا اور پاکستان کے بدنام مجرموں کو اوپر لا کے بٹھا دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فوج کو میں نے برا بھلا نہیں کہا بلکہ آرمی چیف کے ایکشن کی وجہ سے فوج کو برا کہا گیا۔‘
عمران خان نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’ہمیں جب بھی اشتعال دلایا گیا ہے ہم پر امن رہے ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ جو بھی سرکاری بلڈنگز جلائی گئی ہیں ان کی تحقیق ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ جن پرگولیاں چلائی گئیں ان کی انکوائری ہو لیکن میں ان سے انکوائری نہیں چاہتا‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’میں چاہتا ہوں اس کی انویسٹی گیشن چیف جسٹس کریں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’خیبرپختونخوا سے تحریک انصاف کے شاہ فرمان اور شوکت یوسفزئی نے لوگوں کو توڑ پھوڑ سے روکنے کی کوشش کی تو ان سے وہ لوگ الجھ پڑے ان کے کپڑے پھاڑ دیے وہ کون لوگ تھے۔‘
عمران خان کے مطابق ’لاہور میں لوگوں نے بتایا کہ جنرل پبلک کے علاوہ عجیب و غریب لوگ انھوں نے دیکھے جو سب کو اشتعال دلا رہے تھے کہ کنٹونمنٹ میں چلیں۔‘
عمران خان نے دعوی کیا کہ ’جب جیوڈیشل کمپلیکس میں مجھے قتل کرنے کا پروگرام تھا جب بھی ایسے ہی کپڑوں میں لوگ وہاں تھے۔ جو گولی چلی وہ کس نے چلائی ہمارے لوگوں میں کسی نے نہیں چلائی۔‘
عمران خان نےکہا کہ ’ہم آئین و قانون کے ذریعےانتخاب جیت کر آنا چاہتے ہیں۔‘
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوریت کو اب تک بچانے والی عدلیہ ہے عوام سے کہتا ہوں کہ عدلیہ اور اپنے آئین کے ساتھ کھڑے رہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں عمران خان نے کہا ’ عدلیہ کا شکر گزار ہوں کہ جعلی کیسز میں جیل جانے سے بچایا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ 18 مارچ کو میرے گھر پر غیر قانونی طور پر حملہ کیا گیا اور بکتر بند گاڑی سے دروازہ توڑا گیا۔‘
عمران خان نے کہا ہے کہ ’27 سال ہم ہمیشہ پر امن رہے،تحریک انصاف واحد جماعت ہے جہاں خواتین جلسوں میں اتی ہیں تو ہم کیسے انتشار چاہیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن اناونس ہو چکاہے اور پنجاب میں دفعہ 144 لگا دی گئی۔