پنجاب میں جوہوا وہ بلوچستان میں ہوتا تو آدھے لوگ مارے جاتے،ڈاکٹر اللہ نذر

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

آزادی پسند رہنما اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے ایک بیان میں پاکستان کی موجودہ حالت کو بلوچستان سے مووازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں۔ قوم پرست سیاسی جماعتیں اور سیاست پر قدغن ہے جبکہ ہزاروں لوگ غیر اعلانیہ، غیر قانونی، اور خفیہ حراستی مراکز میں قید ہیں اور ہزاروں کو دوران حراست قتل کیا گیا ہے۔ ان کا واحد جرم پرامن سیاست کی وکالت ہے جنہوں نے بلوچ قومی آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے مسائل پر بات کی۔ پنجاب، یعنی حقیقی پاکستان میں، مظاہروں کے نتیجے میں اعلیٰ فوجی اور سرکاری اہلکاروں کے گھروں کے ساتھ ساتھ فوجی تنصیبات کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی فوج نے مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے سے گریز کیا ہے۔ پاکستانی ریاست کی جانب سے ان واقعات پر ردعمل کی کمی یہ بتاتی ہے کہ بلوچ، سندھی اور پشتون سمیت دیگر قوموں کو اپنا موازنہ پنجاب سے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ ہم ایسا کچھ نہیں کہہ رہے کہ ہمیں پنجاب کی طرح سلوک کا مستحق سمجھا جائے۔ ہم غلام ہیں اور ہمیں اپنی حیثیت کا احساس ہے۔ پاکستانی فوج ہمارے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کر رہی ہے، قابض فوج یہی کرتی ہے۔ لیکن اگر ہمارا دشمن مہذب ہوتا تو وہ انسانی حقوق کی ایسی صریح خلاف ورزیوں میں ملوث نہ ہوتا۔ اس میں انسانی اور قومی اقدار کا فقدان ہے، اس نے اسے درندہ بنا دیا ہے۔ میرا پیغام بلوچ قوم کے لیے ہے۔ جو پنجاب میں ہوا وہ بلوچستان میں ہوتا تو آدھا بلوچستان مارا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ پنجابی مظاہرین دہشت گردانہ طرز کی تخریب کاری میں مصروف ہیں، جبکہ فوج خاموش ہے۔ دریں اثنا، بلوچستان کو عام حالات میں بھی شدید ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اپنے حقوق کی وکالت کرنے والے افراد کو یا تو نامعلوم زندانوں میں قید کیے جاتے ہیں یا مارے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد افراد کو فیک انکاؤنٹرز میں مارا گیا ہے۔

بلوچ رہنما نے کہا کہ پچھلے ستر سالوں میں بلوچ عوام کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایوب خان کے دور میں بھی غوث بخش بزنجو، معروف وفاق نواز رہنما کو ون یونٹ تحلیل کرنے کی وکالت کرنے پر ایک جملہ تحریر کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

لیجنڈری بلوچ رہنما شہید غلام محمد بلوچ کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم اسے عدالت کے احاطے سے دوبارہ حراست میں لے لیا گیا اور بعد ازاں اس کی اور اس کے ساتھیوں کی بیدردی سے مسخ شدہ لاش ملی۔

ڈاکٹر اللہ نذر نے کہاکہ جب پولی ٹیکنک راولپنڈی کے طلبانےایوب کتّا ہےکا نعرہ لگایا تو فوج نے اپنی بندوقیں نیچے کر دیں اور کہاکہہ ہمارے اپنے بچے ہیں۔ فیض آباد دھرنے کے دوران ریاست غیر فعال رہی اور کہا گیا کہ مظاہرین ہمارےہم وطن تھے، فوج نے ان میں پیسے بٹورے، جب کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے کارکنوں نے استثنیٰ کے ساتھ لاہور کور کمانڈر کے گھر اور اپنے ہیروز کے مجسموں کو نذرآتش کیا۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کی لڑائی میں بلوچوں کو فوج کے ہاتھوں مارا جا رہا ہے، پرامن مظاہرین کو مارا پیٹا جاتا ہے لیکن عدالتیں خاموش ہیں۔ فوج بلا چون چرا بلوچ عوام کو ذبح کر رہی ہے۔ بلوچ پارلیمنٹرینز خاموش ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ فوج پنجاب کے لیے وقف ہے، اور پاکستان فوج کے کنٹرول میں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بلوچستان میں فوج کے کارناموں سے واقف ہیں، پھر بھی وہ اپنے ذاتی مفادات یا منافقت کے لیے خاموش ہیں۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ ہماری قوم کے لیے یہ بات ییاد رکھنا ضروری ہے کہ جہاں فیصل نصیر کی بلوچستان میں تعریف کی گئی، وہیں پنجاب میں انھیں ’ڈرٹی ہیری‘ قرار دیا گیا۔ یہ تضاد بلوچ نوجوانوں اور بلوچ قوم کے لیے جاگنے کی کال کا کام کرے۔

Share This Article
Leave a Comment