پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں افوائوں کی بنیاد پر جنرل باجوہ اورجنرل فیض حمید کیخلاف کارروائی ممکن نہیں کرسکتے ۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج کے عہدیداروں کے خلاف کچھ باتیں غیر ذمہ دارانہ اور غیر آئینی ہیں۔
ایک صحافی نے فوج کے ترجمان سے پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا کہ ’کہا جاتا ہے کہ کمان کی تبدیلی کے ساتھ احتساب بھی ہوتا ہے۔۔۔ تحریک انصاف کہتی ہے کہ جنرل باجوہ کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے جبکہ پی ڈی ایم کہتی ہے کہ جنرل فیض کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے۔۔۔ تو کیا واقعی ان دونوں جرنیلوں نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا، جس پر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی ہونی چاہیے؟‘
اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے ہیں کہ فوج سے متعلق کسی بھی خبر کے لیے اپنی نظریں صرف آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز پر رکھیں۔ وہی واحد ذریعہ ہیں۔
’آئی ایس پی آر کے کئی فیک اکاؤنٹ سوشل میڈیا پر متحرک ہیں، صرف مصدقہ اکاؤنٹ پر توجہ رکھیں۔ اس طرح آپ اضطرابی قسم کے سوال اور مفروضوں پر نہیں جائیں گے۔‘
میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’فوج کا اپنا مفصل نظام موجود ہے۔۔۔ اگر کوئی تنقید ہو تو اس پر کارروائی ہوتی ہے مگر یہ نظام حقائق اور ڈیو پراسس پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد تمام فریقین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔‘
’اس کا مقصد افواہوں کی بنیاد پر کارروائی نہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں مزید کہا ہے کہ ’آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی رائے کا حق دیتا ہے۔ مگر چند قوانین اور بندشیں ہیں۔ فوج کے عہدیداروں کے خلاف کچھ باتیں غیر ذمہ دارانہ اور غیر آئینی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے پیچھے ذاتی اور سیاسی مقاصد ہوں۔‘
’فوج کی تربیت اسے اجازت نہیں دیتی کہ ہر بات کا جواب دیا جائے۔ اگر یہی بات چیت صحافیوں یا سیاسی رہنماؤں کے بارے میں کی جائیں تو انھیں جواب کا حق ہے۔ ججز کے لیے ہتک عزت کا قانون موجود ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اداروں کے بارے میں باتوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔‘