مہراللہ یلانزئی پر مسلح تنظیم کے الزامات بے بنیاد ہیں، اہلخانہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

گزشتہ ہفتے خاران بازار میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مہراللہ یلانزئی کے اہلخانہ نے خاران پریس کلب میں پریس کانفرنس کی ۔

میر جمعہ خان یلانزئی، جہانزیب خان یلانزئی و دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے خاران سبزی منڈی میں مہراللہ یلانزئی ولد سہراب خان یلانزئی کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا اور رات کو بلوچ مسلح تنظیم کی جانب سے مہراللہ کے قتل ان پر بلوچوں کو لاپتہ کرنے اور علاقے میں چوری و ڈکیتی کے الزامات لگائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ الزامات سے ہمارے پورے قبیلے اور خاندان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ مہراللہ یلانزئی پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، اگر کسی بھی چوری و ڈکیتی میں ملوث ہوتا تو پولیس یا لیویز تھانے میں انکے کیخلاف ایک چوری و ڈکیتی کا کیس دائر ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ مہراللہ کا کسی بھی گروپ سے کوئی واسطہ نہیں تھا اگر مہراللہ واقعی کسی بھی فعل یا جرائم میں براہ راست ملوث تھا تو بلوچ قوم اور ہمارے خاندان کے سامنے مہراللہ یلانزئی سے متعلق ثبوت لے آئے، بصورت دیگر ہم اس ناحق قتل کو کسی بھی صورت معاف نہیں کریں گے۔

واضع رہے کہ مہراللہ یلانزئی کی ہلاکت کی ذمہ داری بلوچ مسلح تنظیم بی ایل ایف نے قبول کرلی تھی ۔

تنظیم کے ترجمان میجر گہرام بلوچ کا کہنا تھا کہ مہراللہ یلانزئی ولد سہراب اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر بلوچوں کے اغوا، گھروں کی نشاندہی اور کئی فوجی آپریشنوں میں ملوث رہا ہے۔ وہ خاران کے علاقوں تَنک، کلّگ، گواش میں چوری اور ڈکیتی میں بھی ملوث رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment