تشدد انسانی جبلت سے وابستہ رکھتی ہے، اس لیئے انسان چھوٹی چھوٹی مسئلوں کے علاوہ مختلف وقت و حالات میں متشددانہ رویہ اپناتی ہے۔ عام طور پر تشدد انفرادی بھی ہوسکتی ہے، کبھی کبھی انفرادی سوچ و بچار سے لیکر اجتماعی مقصد تک وقوع پذیر ہوتی ہے۔یہ اگر اجتماعیت کا نظریہ بن جائے تو مخالف یعنی دشمن کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔
یہ تشدد محکوم قوم کو مضبوطی و توانائی بخشنے کے بعد ظالم کی جگہ اس محکوم قوم کو تخت نشین کرتی ہے جو مولوی و مہذہبی یا نسل پرستوں کی جگہ فلسفی و دانشور، ادیب و شاعر، قوم پرست اور سرفروش سرمچار پیدا کرتی ہے۔ یہ تشدد دنیا کی طاقتور ممالک کو ہلاکر رکھ دیتی ہے۔ تشدد ذہنی و جسمانی، سیاسی و قومی اور ثقافتی قوت کو مضبوط بناکر ڈر و خوف، ذہنی الجھن و تناؤ کی جگہ موت کے ساتھ فلسفیانہ محبت سکھاتی ہے جس طرح مجید بریگیڈ کی کاروان کی راہ پر چلنے والے بلوچ سرمچار کرتے ہیں۔
وہ اپنے اپنے ماتھے پر سرخ کفن باندھ کر کیمپوں میں ایسے گھس کر مارنا شروع کرتے ہیں، لگ رہا ہوتا ہے کہ یہ ہندوستانی فلموں کی ہیروز ہیں۔ درحقیقت یہ ہماری قومی ہیروز ہیں، یہ ہماری پہچان کو سنبھالنے والے نرمزار فدائین ہیں جن کی کارکردگیوں کو پوری دنیا سراہتی ہے، یہ وہی سرمچار ہی تو ہیں جنہوں نے پاکستان جیسی غیر فطری ریاست کو دنیا کے سامنے ننگا کر کے بلوچ قوم کے حوصلے بلند کردیے، یہ پنجگور و گوادر اور کراچی کے گوشے گوشے میں پہنچ کر دشمن کو پسپا کرنے کے بے حد مثالیں اور "اربن گوریلہ حکمت عملیوں” کی طور طریقے پیش کر چکی ہیں ۔
بلوچ قوم ظالم طاقت کی زیر اثر رہا ہے، ظلم و جبر اور خونریزی سے لپٹی ہوئی ہے ۔ایسا سماج اگر غلامی و استحصالی طبقات میں پھس کر خود ظالم قوت کو تسلیم کرلیں تو یہ طبقے، ظلم و جبر، وحشیانہ حملے،جنسی و جسمانی تشدد، انتہائی پسندی و نسل کشی، مسخ شدہ لاشوں کی پھینکنے کی لہر، ظالم ججز و پولیس اور فوجیاں مختلف نوآبادیاتی منصوبہ بندی کے تحت مختلف شکلیں اختیار کرتے ہیں، یہ سب اس وقت وقوع پذیر ہوتے ہیں جب تک عام عوام ایک قومی لیڈر کی زیر اثر چھوٹے موٹے چیزوں کے کیلئے سراپا احتجاج پر بیٹھ کر "بنیاد حقوق، بنیادی حقوق” کی جگہ آزادی کی گیت نہیں گنگناتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ "شہری حقوق،شہری حقوق” والے نعروں کو نوآبادیاتی ادارے اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے کیلئے عوام کو روڑوں پر احتجاج کرنے کو کہہ رہی ہے جو ریاست، اپنی جڑوں کو دور تک پھیلا کر ایک گوریلہ جنگ کو آئی جیک کرنے کی مختلف کوششیں کرنے کیلئے مصروف ہوتی ہے۔
اگر غور و خوص ،چھان بین کرلیں تو یہ نظام بے روزگاری وہراس، ذہنی مریضی،نوآبادیاتی نرگسیت و چمچہ گری، سردار و میر، ڈیت اسکواڈز، جاگیرداری اور مذہبی و نوآبادیاتی پروگرامز اپنی بازوؤں کے زور قوت سے پیدا کرکے پورے سماج کو مسمار کرنے کے لیے دن رات کوششیں کر رہی ہے۔اسی نظام کی پیداوار قابض فوج اپنی جڑوں کو مختلف طریقے سے مضبوط کرنے لگی ہے، ایم آئی و آئی ایس آئی کی جگہ پولیس و سی ٹی ٹی کولا کر اندر مختلف ادارے بناکر بلوچ نیشنلزم کو کاؤنٹر کرنے کی پروپگنڈے کررہی ہے۔
پاکستانی ریاست مسلسل سنگین ترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کے تحت اپنی ساخت کو بچانا چاہ رہی ہے۔ روس و چین،امریکہ اور باقی ترقی یافتہ ممالک کیلئے دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہوکر محکوم اقوام کو استعمال کررہی ہے، پاکستان خود بیرونی طاقتوں کا ایک پروپگنڈا ہے جو مذہبی آئین و جھوٹے کے بغیر دنیا میں اپنی ساخت کو قائم نہیں رکھ سکتی ۔بلوچ قوم ایک سیکولر ریاست کو تشکیل دینا چاہتا ہے، یہ اپنی تاریخ و ثقافت، زبانوں اور پورے زمین پر اپنی ہی حکومت کو چلانا چاہتا ہے۔ جس ریاست کو تشکیل دینے کیلئے ماؤں کے لخت جگر پہاڑوں کے دامن واقع دشت و جبل دن رات بغیر دنیاوی خواہش کے بس آزادی کیلئے لڑی رہی ہیں وہ ریاست باقی ریاستوں سے الگ ہوگی۔ اس کی بنیاد بلوچ نیشنلزم سے بن جاتی ہے۔
اب تشدد واحد رستہ ہے جسے ڈاکٹر اللہ نذر، عبدالنبی بنگلزئی، بشیر زیب اور باقی نڈر لیڈرز نے اختیار کرکے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی کیلئے پہاڑوں کے گود میں گوریلہ حکمت عملیوں کے منصوبہ بناکر پھر نڈر سرمچار دشمن کو کچل کچل کر شہیدوں اور معصوم لوگوں کا حساب لیتے ہیں، یہ تسلسل تشدد ہے جو نوآبادیاتی تشدد کو ختم کرکے ایک نئی نظام کو تشکیل دیتی ہے ۔
٭٭٭