بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل جھل جھاؤ کے مختلف علاقے میں آئے روزپاکستانی فورسز کیجارحیت شدت کے ساتھ جاری ہے۔
آج جھاؤ کے علاقے سوادان حسن گوٹھ میں فورسز نے چار نوجوان سمیت ایک خاتون کو کافی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق فورسز ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے چاروں نوجوان اور خاتو ن کی حالت تشویشناک ہے۔
تشدد کا نشانہ بننے والوں کی شناخت ثنااللہ ولد گل محمد،مولابخش ولد حسین ،معمود ولد رحیم بخش ،ثنااللہ ولد نبی داد اور مسماۃ ز وجہ نبی داد کے ناموں سے ہوگئی ہے ۔
مقامی ذرائع کے مطابق جھاؤ کے علاقے سوادان میں سیکورٹی فورسز ایک دینی مدرسہ تعمیر کررہی ہے اور مقامی لوگوں سے بیگار لی جاتی ہے ۔لوگوں کےانکارپر فورسز کی جانب سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور دھمکایا جاتا ہے کہ کام نہ کرنے کی صورت میں انہیں لاپتہ کیا جائے گا۔جبکہ نوجوانوں کو کوہڑو اور ملاہی گزی میں واقعہ کیمپوں میں بلاکر تشدد کانشانہ بنایاجاتاہے اوربیگار بھی لی جاتی ہے ۔