ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ ایک درویش صفت سیاستدان تھے۔ انہوں اپنی ساری زندگی میں دوچیزوں سے رشتہ نہیں چھوڑا۔ ایک فٹ پاتھ اور دوسرا کارکنوں سے اپنارشتہ تادم مرگ برقرار رکھا۔ وه پیدل چلتے تھے۔ اور سیاسی کارکنوں کے درمیان میں رہتے تھے۔ نہ انہیں لگژری گاڑیوں کا تمنا تھا اور نہ انہیں بڑے محلوں میں رہنے کا شوق تھا۔ وه جب بھی کراچی آتے تھے۔ تو میری موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھنے کو ترجیح دیتے تھے۔
انہوں نے ساری زندگی بلوچ عوام کے حقوق کے حصول کی سیاست کی۔ وه مستقل مزاجیانسان تھے۔ اور ثابت قدمی کے ساتھ سیاست کرتے تھے۔ وه ایک قومی رہبر اور سیاستدان تھے۔ ان کی حادثاتی موت سے جو سیاسی خلاء پیدا ہوا یقیناً وه کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔ ان
کی سیاسی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ سے میری ملاقات طالبعلمی کے زمانے میں ہوئی تھی۔ تاہم اس سےباقاعده دوستی صحافتی پیشہ ورانہ کے دورمیں ہوئی۔ جب ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر اکرم دشتی اور موجوده نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل میر جان محمد بلیدی نے روزنامہ ‘رہبر’ اخبار کی اشاعت کا فیصلہ کیا۔ روزنامہ رہبر کا پہلا ایڈیٹر میر اکرم دشتی کو مقرر کیا گیا۔ ڈاکٹر مالک بلوچ اور میر جان محمد بلیدی انتظامی امور کو دیکھتے تھے۔ جبکہ اخبار کی ایڈیٹوریل ٹیم پروفیشنل تھی۔ جن میں نیوز ایڈیٹر، سب ایڈیٹر، ایڈیٹوریل رائٹر، رپورٹرز شامل تھے۔
پروفیشنل ٹیم کا عبدالحئی بلوچ کی سیاسی جماعت سے کوئی وابستگی نہیں تھی۔ انہیں باقاعده تنخواہیں دی جاتی تھی۔ میں بھی اس پروفیشنل ٹیم کا حصہ تھا۔ میں نے صرف طالب علمی کے زمانے میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے سیاست کی۔ اس کے بعد میری کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستگی نہیں رہی۔ صحافت میں آنے کے بعد میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور کراچی پریس کلب کے رکن کی حیثیت سے سرگرمیوں میں حصہ لیتا رہا ہوں۔
روزنامہ رہبر کی اشاعت اس وقت شروع ہوئی۔ جب بلوچستان میں سردار اختر مینگل کی حکومت تھی۔ اور میاں نواز شریف ملک کے وزیراعظم تھے۔ 28 مئی 1998 کو بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر پانچ ایٹمی دھماکے کیے۔ یہ جوہری تجربہ راس کوه پہاڑیوں میں
کیا گیا۔ راسکو ه دوسو پچاس کلومیٹر طویل ایک پہاڑی سلسلہ ہے جوخاران اور چاغی کی سرحدی پٹی پر واقع ہے۔ اس سلسلے کی بلند ترین چوٹی کوه راس ہے۔ جس کی بلندی تقریباً دس ہزار فٹ ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے مشہور پہاڑ واقع ہیں۔ جن میں کوه ملک سیاه ،
ملک سرنده ، کوه رباط ، گاو کوه وغیره۔
ایٹمی دھماکہ کرنے بعد راسکوه کے باسیوں کو ایٹمی تابکاری کا سامنا کرنا پڑا۔ علاقےکو مہلک بیماریوں نے اپنے آغوش میں لے لیا۔ آج بھی تابکاری جیسی صورتحال اپنی جگہ موجود ہے۔ تابکاری کے تدارک کے لئے حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی یا منصوبہ بندی نہیں تھی۔ کیونکہ بلوچ کا خون بہت سستا ہے۔ بلوچ کی جان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ البتہ بلوچ سرزمین انہیں دل و جان سے عزیز ہے۔ مگر بلوچ نہیں۔
سرزمین ماں ہوتی ہے۔ اور ماں کی بددعا سے کوئی نہیں محفوظ نہیں رہتا ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ اختر مینگل کی حکومت وه اپنی مدت پوری نہ کرپائی۔ 22 فروری 1997 کو ان کی حکومت بنی۔ 15 جون 1998 کو ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ ایٹمی دھماکہ 28 مئی 1998 کو کیاگیا۔ جبکہ 25 مئی 1998 کو تربت ایئرپورٹ سے پی آئی اے کے ایک طیاره کو ہائی جیک کیا جاتا ہے۔ جہاز کو سندھ میں حیدرآباد ایئرپورٹ اتارا جاتا ہے۔ جہاں ایک ڈرامائی ایکشن کے ذریعے مسافروں کو آزاد کیا جاتا ہے۔ اور ہائی جیکروں کوگرفتار کیا جاتا ہے۔ ہائی جیکنگ کیس سے متعلق میں نے روزنامہ رہبر میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی۔ جس میں ہائی جیکنگ کی اندرونی کہانی تھی۔ میری اسٹوری پر مکران کی ایک طاقتور ترین کاروباری شخصیت امام بخش بزنجو عرف امام بیل نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ تاہم امام
بخش بزنجو سے میرے خاندانی تعلقات کی مضبوطی کی وجہ سے تنازعے کا تصفیہ ہوگیا۔ بعد میں امام بخش بزنجو بھی ہائی جیکنگ کیس میں باعزت بری ہوگئے۔
ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ جیسے سیاستدان جنہوں نے ساری زندگی کارکن کی حیثیت سے جدوجہد کی۔ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے اوّلین چیئرمین تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی موت ایک قومی نقصان ہے۔ 25 فروری ، 2022 کو ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا میں
موٹر وے پر ایک ٹریفک حادثے میں وه ہم سے جدا ہوگئے۔ ان کا شمار بلوچستان کے ان سیاسی قائدین میں ہوتا تھا۔ جنہوں نے بلوچستان کو صوبے کا درجہ دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سال 1945 کو ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل بھاگ کے دور افتاده علاقے چھلگری میں پیدا ہوئے۔ طالب علمی کے زمانے میں وه 1970 کے عام انتخابات میں بلوچستان سے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے امیدوار کے طور پر قومی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑا۔ یہ شاید پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک غریب سیاسی کارکن نے خان آف قلات کے خاندان کو شکست دی۔ انہوں نے سابق وفاقی وزیر مواصلات پرنس محی الدین بلوچ کو الیکشن میں ہرایاتھا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران انہیں کراچی سے کوئٹہ جاتے ہوئے جہاز کے اندر سے گرفتار کرکے ایئرپورٹ سے تھانے منتقل کیاگیا۔بعد میں انہیں جیل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیس ماه قید رکھا گیا۔ اس زمانے میں بلوچستان کے دیگر نامور سیاستدان بھی
جیل میں تھے۔ جن میں سردار عطاء الله مینگل’ میر غوث بخش بزنجو’ نواب اکبر خان بگٹی’ نواب خیر بخش مری’ عبدالصمد خان اچکزئی اور دیگر شامل تھے۔
ڈاکٹر صاحب نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتیں تشکیل دیں۔ انہوں نے 1989ء میں بلوچستان نیشنل یوتھ موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ملکر نیشنل الائنس بنایا۔ وه نیشنل الائنس کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوگئے جبکہ نواب اکبر خان کو اس الائنس کا صدر چنا گیا۔ بعدازاں انہوں نے بلوچستان نیشنل موومنٹ بنائی۔ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل صدر اور ڈاکٹرعبدالحئی بلوچ نائب صدر منتخب ہوئے۔
سال 2005 کو ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ پاکستان نیشنل پارٹی کے ساتھ انضمام کرکے نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔ تاہم 2008 ء کے بعد ان کا نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سے اختلاف شروع ہوئے۔ بالآخر ڈاکٹر صاحب نے نیشنل پارٹی سے اپنی راہیں الگ کرلیں۔2017ء میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے الگ جماعت قائم کی اور اس کے مرکزی صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے کبھی بھی بلوچ ایشو پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی زندگی فقیرانہ تھی۔ انہوں نے سیاست کو کاروبار نہیں سمجھا بلکہ سیاست کو عوامی خدمت سمجھتا تھا۔ ان کی موت سے بلوچستان کی تاریخ کا ایک اور باب بند ہوگیا۔
٭٭٭