بھارت کے ریاست پنجاب میں سکھوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست خالصتان بنانے کے حق میں ہونے والے تاز ہ مظاہروں کے دوران کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
خالصتان حامی رہنماوں کا کہنا ہے کہ خالصتان کا جذبہ برقرار ہے، جسے دبایا نہیں جا سکتا۔
بھارتی ریاست پنجاب کے دارالحکومت امرتسر کے انجالا علاقے میں جمعرات کے روز علیحدہ ریاست خالصتان کے حامیوں کے ایک مظاہرے کے دوران تشدد پھوٹ پڑا، جس میں متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
رواں ماہ کی نو تاریخ کو بھی چندی گڑھ پولیس اور خالصتان کی حامی تنظیم قومی انصاف مورچہ کے درمیان اسی طرح کی جھڑپیں ہوئی تھیں، اس طرح جمعرات کو اس مہینے ہونے والا ایسا یہ دوسرا واقعہ ہے، جس میں خالصتان کے حامیوں نے اپنے موقف کو پیش کرنے کی کوشش کی۔
جمعرات کے روز خالصتان (سکھوں کے لیے خود مختار ریاست) کے حامی رہنما امرت پال سنگھ کے بہت سے ساتھیوں کی، جو تلواروں، بندوقوں اور تیز دھار دیگر ہتھیاروں سے لیس تھے، ریاستی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ اس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
خالصتان کے حامی رہنما امرت پال نے اپنے ایک قریبی ساتھی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اپنے حامیوں کو اجنالا میں جمع ہونے کی کال دی تھی۔ امرت پال وارث پنجاب ڈے نامی تنظیم کے سربراہ ہیں۔
مظاہرے میں شامل بہت سے مسلح لوگوں نے پولیس کی رکاوٹوں کو توڑ دیا اور اجنالہ پولیس اسٹیشن کے قریب پولیس اہلکاروں کے ساتھ زبردست جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد مظاہرین تھانے کے احاطے میں داخل ہو گئے۔
بھارتی صوبے پنجاب کو سکھوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست خالصتان بنانے کی مہم کافی پرانی ہے اور اس سے وابستہ بیشتر رہنما امریکا، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک میں رہ کر اپنی مہم چلاتے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں بھارتی ریاست پنجاب میں رہتے ہوئے بھی ایسے کئی رہنماؤں نے اس تحریک کی کھل کر حمایت کی ہے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی طرح بھارتی ریاست پنجاب میں بھی علیحدگی پسندی کی تحریک، اس کے خلاف تمام تر حکومتی کوششوں کے باوجود آج تک ختم نہیں ہوئی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی کئی قراردادیں موجود ہیں، جن میں مقامی باشندوں کی رائے سے مسئلے کے حل کی بات کی گئی ہے۔