میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے صدارتی محل میں موجود عملے کے درجنوں افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ابتدا میں 20 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے تھے تاہم اتوار کو نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی کہ یہ تعداد بڑھ کر 40 ہو گئی ہے۔
افغان حکومت کی جانب سے ابھی اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
صدر کے حوالے سے بھی ایسی کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔ صدر غنی 1990 کی دہائی میں کینسر کی وجہ سے اپنے معدے کا ایک حصہ کھو چکے ہیں۔
افغانستان میں اب تک 33 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے اور کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد ایک ہزار بتائی گئی ہے۔
لیکن یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ملک میں کئی دہائی تک جاری رہنے والی بدامنی کی وجہ سے صحت کا نظام اور وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کیے جانے کی سہولیات بہت محدود ہیں۔
یہ بھی خدشات ہیں کہ یہ وائرس ان ڈیڑھ لاکھ افغان باشندوں میں بھی پھیل سکتا ہے جو مارچ میں ایران سے آئے تھے جبکہ دسیوں ہزار ایسے بھی ہیں جو پاکستان واپس لوٹے تھے۔