اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یوکرین میں جنگ روکنے کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ نے یوکرین سے فوجیوں کے انخلا اور جنگ روکنے کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں 141 ممالک نے اس تحریک کے حق میں ووٹ دیا، 32 ممالک نے اس ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا اور روس سمیت سات ممالک نے اس قرار داد کی مخالفت کی۔

روس کے خلاف اکثریت سے منظور کی جانے والی قرارداد کے دوران کچھ اہم ممالک بھی غیر حاضر رہے۔

چین، انڈیا، ایران اور جنوبی افریقہ ان 32 ممالک میں شامل تھے جنھوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

جن سات ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا ہے ان میں روس، بیلاروس، شمالی کوریا، اریٹیریا، مالی، نکاراگوا اور شام شامل ہیں۔

خیال رہے کہ ووٹنگ ویانا میں یورپی سیکورٹی باڈی کے پارلیمانی اجلاس میں روسی خطاب کے دوران بڑی تعداد میں مندوبین کے واک آؤٹ کے بعد ہوئی۔

یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کا واک آؤٹ اور اقوام متحدہ کا ووٹ اس روسی حملے کی پہلی برسی سے ایک دن قبل آیا۔

اقوام متحدہ نے اپنی قرار داد میں جلد از جلد امن کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

قرارداد میں یوکرین کی ’خودمختاری‘ اور ’علاقائی سالمیت‘ کی حمایت کی توثیق کی گئی ہے۔ قرارداد میں روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں پر کسی بھی ماسکو کے دعوے کو مسترد کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ’روسی فیڈریشن فوری طور پر، مکمل طور پر اور غیر مشروط طور پر اپنی تمام فوجی دستوں کو یوکرین کی سرزمین سے اپنی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر واپس بلائے‘ اور یوکرین کے ساتھ دشمنی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا یہ اقدام قانونی طور پر روس کو اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں بناتا۔ تاہم ایسی قرادادیں اپنا سیاسی اہمیت کی حامل ضرور ہوتی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment