اسٹیبلشمنٹ نے کہا اگر بچے ریاست سے بچ بھی جائیں تو والدین کو مثال بنایا جائیگا،والد گلالئی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان سے صوبہ خیبر پختونخواکےجلاوطن سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کے والد پروفیسر محمد اسماعیل،جنہیں حال ہی میں پشاور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردوں کی معاونت اور ریاست کے خلاف بغاوت کرنے کے الزامات سے باعزت بری کر دیا ہے ،نے وائس آف امریکہ کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں ہمارے دوست احباب اور رشتہ داروں پر اتنا دباؤ ڈالا گیا کہ انہوں نے ہمارے گھر آنا چھوڑ دیا۔ پولیس کے پوچھنے پر وہ ڈر کے مارے ہم سے لاتعلقی کا اظہار کر دیتے تھے۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پروفیسر اسماعیل اور ان کی اہلیہ کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے اس لیے عدالت انہیں بری کرتی ہے۔

پروفیسر اسماعیل نے بتایا کہ ”دہشت گردی اور بغاوت اور غداری کا مقدمہ چل رہا تھا جس کے خلاف میں نے پشاور ہائی کورٹ میں اپیل کر رکھی تھی۔ اکتوبر 2019 میں جب میں ہائی کورٹ سے باہر نکلا تو مجھے اغوا کر لیا گیا۔ جس کے بعد مجھے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔ سائبر کرائم کی پولیس نےرپورٹ درج کر کے مجھے ایک ماہ کے لیے جیل بھیج دیا۔ "عام عدالت سے تو نہیں لیکن چیف جسٹس پشاور نے مجھےمشروط ضمانت دی۔”
عدالت نےبدھ کو پروفیسر اسماعیل اور ان کی اہلیہ کو بری کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف لگائے گئے الزامات ثابت نہیں کر سکا۔

سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کے والدین جنوری 2021 سے لے کر اب تک تقریباً 167 مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے۔

والدین کا کہنا ہے کہ ان پر بننے والے کیسز کی وجہ ان کی بیٹی گلالئی اسماعیل کا سیاسی ایکٹیوزم تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر احسان اللہ احسان جیسےدہشت گردی کرنے والوں کو تو صاف راستہ دیا گیا اور جو دہشت گردی کے خلاف بات کرتے ہیں انہیں ٹھکانے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ اسٹیبلشمنٹ انہیں سبق دینا چاہتی تھی کہ “اگر تمہارے بچے انسانی حقوق کے لیے ایکٹیوزم کریں، یا ایسی سیاسی سرگرمی کریں جس میں بنیادی حقوق کی بات ہو، جس میں مظالم اور آئین کی خلاف ورزی کو چیلنج کیا جائے، تو ایسے میں اگر بچے ریاست سے بچ بھی جائیں تو پھر ان کے والدین کو مثال بنایا جائے گا‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’جب گلالئی باہر چلی گئی، اداروں اور ایجنسیوں کی حدود سے نکل گئی، تو انہوں نے میرے اور میری بیوی کے خلاف مقدمات بنانا شروع کر دیے۔‘‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment