امریکی انسٹیٹیوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی) کی جانب سے واشنگٹن میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ’پاکستان میں اقتصادی بحران اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے دوران پاکستانی طالبان دوبارہ تیزی سے خطرہ بن کر سامنے آئے ہیں‘۔
رپورٹ میں کابل کی جانب سے اسلام آباد کی پالیسیوں پر حالیہ تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’یہ غیر سفارتی بیان بازی پاکستان کی جانب سے دباؤ بڑھانے کے باوجود طالبان کے ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کو اجاگر کرتی ہے‘۔
یو ایس آئی پی نے کہا کہ طالبان سے ٹی ٹی پی کی حمایت کے بارے میں پوچھے گئے سوالات پر جوابی الزام لگانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے حمایت ترک نہیں کی۔
یو ایس آئی پی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس طرح کی بیان بازیوں کے اشارے اقوامِ متحدہ کے حکام اور دیگر مبصرین کی ٹی ٹی پی کے افراد کے آزادانہ گھومنے اور افغان شہروں میں کاروبار کرنے سے متعلق رپورٹس سے ملتے ہیں۔
قندھار تک رسائی رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ طالبان کے امیر اور ان کے قریبی مشیر ’نظریاتی بنیادوں پر ٹی ٹی پی کی حمایت کرنا ترک نہیں کریں گے‘۔
یو ایس پی نے خبردار کیا کہ ’معاشی حالات نے پاکستان کے عسکری آپشنز کو محدود کردیا ہے، پاکستان، ملک کے اندر چھاپہ مار کارروائی اور دفاعی کارروائیاں کرسکتا ہے لیکن اس کے پاس بھرپور اور مسلسل جاری رکھنے والی مہم کے لیے وسائل نہیں ہیں‘۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ’پاکستان نے ایک مرتبہ پھر سرحد پار فضائی حملوں کے خیال پر غور کیا تھا جو اس نے آخری بار اپریل 2022 میں کیے تھے اور اسے کسی کارروائی کے لیے دباؤ کا بھی سامنا ہے کہ لیکن اس کے لیے ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتا ہے‘۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ معاشی دباؤ اور تنازعات بڑھنے کا خطرہ خاص کر ٹی ٹی پی میں طالبان جنگجووں کی شمولیت کی اطلاعات نے پاکستان کو اس طرح کی سرحد پار کارروائیوں کے حوالے سے شکوک و شبہات میں مبتلا کردیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ٹی ٹی پی بڑھتی ہوئی پر تشدد کارروائیاں اس کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور مادی طاقت کی وجہ سے ہے جس کا اظہار سیاسی ہم آہنگی، تربیت یافتہ جنگجووں، خود کش حملہ آوروں، ہتھیاروں اور آلار کی کی تعداد بڑھنے سے ہوتا ہے۔