بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرزکی شہر ےتربت میں تربت سول سوسائٹی کی جانب سے بلوچ خاتون رشیدہ زہری اور اس کے شوہر رحیم زہری کی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔
مظاہرین نے تربت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے گلزار دوست نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کی مکمل طور پر نسل کشی ہورہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرد افرادکو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایاجاتاتھا اب بلوچ خواتین و شیرخوار بچوں کو بھی ماورائے عدالت لاپتہ کیا جارہا ہے جو بلوچ قوم کی نگ و ناموس پر ایک ریاستی حملہ ہے جسے بلوچ قوم کسی صورت بھی برداشت نہیں کرسکتا ۔
مظاہرے کے شرکا نے پلے کارڈ زاٹھا ہوئے تھے جن پررشیدہ زہری اور رحیم زہری کی فوری بازیابی اور کراچی میں حفیظ زہری کی دوبارہ جبری گمشدگی کی مذمتی نعرے درج تھے۔
واضع رہے کہ گذشتہ دنوں 3 فروری کو بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے گشکوری ٹائون بشیر چوک سے پاکستانی سیکورٹی اداروں نے رات ایک بجے ایک گھر پر چھاپہ مارکر بی بی رشیدہ اسکے شوہر محمد رحیم، دو بچوں اور ساس کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔بی بی رشیدہ کے ساس اور بچوں کو 5 فروری کو قمبرانی روڑ پر چھوڑ دیا لیکن بی بی رشیدہ اور اس کا شوہر محمد رحیم تاحال لاپتہ ہیں۔