افغانستان: خواتین کی تعلیم پر پابندی کیخلاف احتجاج پر لیکچرار گرفتارولاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغانستان میں طالبان نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے خلاف ٹیلی ویژن پر احتجاج کرنے والے لیکچرار کو گرفتار کرتے ہوئے سخت تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق شعبہ صحافت کے معروف لیکچرار اسمٰعیل مشعل نے طالبان حکام کی طرف سے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے گزشتہ سال دسمبر میں ٹی وی پر اپنے ڈگری سرٹیفکیٹس پھاڑ کر پھینک دیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں لیکچرار اسمٰعیل مشعل کو کابل میں راستے میں ملنے والے شہریوں کو کتابیں پیش کرتے دیکھا گیا تھا۔

لیکچرار اسمٰعیل مشعل کے ساتھی فرید احمد فضلی نے کہا کہ افغان طالبان اسمٰعیل مشال پر بے رحمانہ تشدد کرتے ہوئے انہیں انتہائی تضیک آمیز انداز میں لے گئے۔

وزارت اطلاعات و ثقافت کے وزیر عبدالحق حماد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر اپنے جاری کردہ بیان میں لیکچرار کو گرفتار کرنےکی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’استاد کافی عرصے سے نظام کے خلاف اشتعال پھیلانے میں مصروف تھا اس لیے سیکیورٹی اداروں نے ان سے تفتیش کے لیے انہیں اٹھایا ہے۔‘

اسمٰعیل مشعل کے ساتھی فرید احمد فضلی نے کہا کہ وہ کابل میں متعدد جامعات میں پڑھا چکے ہیں جن کو گزشتہ روز بغیر کسی جرم کے اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ مرد و خواتین کو مفت کتابیں فراہم کر رہے تھے جو ابھی تک تحویل میں ہیں اور ہمیں پتا نہیں کہ ان کو کہاں رکھا گیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment