توہینِ مذہب کے قوانین میں ترامیم سے ظلم و زیادہ فروغ ملے گا، ایچ آر سی پی

0
41

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے چیئر پرسن حنا جیلانی نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین میں ترامیم سے ظلم و ستم کو اور زیادہ فروغ ملے گا۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے 17 جنوری کو قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور ہونے والے فوجداری قوانین (ترمیمی) ایکٹ 2023 پرشدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ اِس بِل کا بیان کردہ مقصد فرقہ واریت کو روکنا ہے، تاہم، ایچ آر سی پی کا خیال ہے کہ اس سے پاکستان کی مشکلات میں گھری مذہبی اقلیتوں اور اقلیتی فرقوں پر ظلم و ستم میں اضافہ ہوگا۔

مجوزہ قانون میں پیغمبرؐ کے خاندان، ازواج مطہرات، صحابہ کرام اور چاروں خلفاء سمیت مقدس ہستیوں کے خلاف توہین آمیز کلمات کی سزا تین سال سے بڑھا کر عمر قید کر دی گئی جبکہ‘کم از کم سزا دس برس’کر دی گئی ہے۔ اس بِل نے جرم کو بھی ناقابلِ ضمانت بنا دیا ہے جو کہ آرٹیکل 9 کے تحت ذاتی آزادی کے آئینی طور پر ضمانت شدہ حق کی واضح خلاف ورزی ہے۔

پاکستان میں اِس طرح کے قوانین کے غلط استعمال کی تکلیف دہ تاریخ کے پیشِ نظر، خدشہ ہے کہ یہ ترامیم زیادہ تر مذہبی اقلیتوں اور فرقوں کے خلاف بطورِ ہتھیار استعمال ہوں گی، اور نتیجے میں جھوٹی ایف آئی آرز، ہراسانی اور ظلم و ستم کو فروغ ملے گا۔ مزید برآں، مبینہ توہینِ مذہب کی سزا میں اضافے سے ذاتی انتقام کے لیے قانون کے غلط استعمال میں اضافہ ہو گا، جیسا کہ اکثر توہینِ مذہب کے الزامات میں ہوتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب سول سوسائٹی ان قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ان میں ترامیم کا مطالبہ کر رہی ہے، سزا میں اضافہ کرنا اس کے بالکل برعکس ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here