پہاڑوں پر جانیوالوں نے بلوچ قوم کو نقصان کے سوا کچھ نہیں دیا، قدوس بزنجو

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ قدوس بزنجو نے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پہاڑوں پر جانے والے لوگوں نے بلوچ قوم اور بلوچستان کا فائدہ کرنے کے بجائے ان کا نقصان کیا ہے، پہاڑوں پر جانے والے پڑھے لکھے اور سمجھدار ہیں انہیں عوام کی حمایت حاصل نہیں لہذا وہ اپنا فیصلہ واپس لیکر ملک کے فریم ورک کے اندر جد و جہد کریں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کا انگریزی میں مطلب پاکستان پیپلز پارٹی ہی بنتا ہے، 2018 اور 2021 میں حکومتی تبدیلیاں خالصتا ارکان اسمبلی کے ذریعے آئیں۔ اسمبلیاں عوام کی امانت ہیں انہیں پانچ سالہ مدت مکمل کرنی چاہیے، گوادر کی بہتری کی ذمہ داری وفاقی حکومت کو لینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آواران شورش کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا، ہم ایسے بھنور میں پھنس گئے ہیں کہ دونوں جانب سے ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔ لوگ پہاڑوں پر کسی نہ کسی وجہ سے گئے ہیں بہت کی نا انصافیاں ہوئی ہیں لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنے لوگوں پر ہتھیار اٹھا لیں۔ہم نے تخریب کاری کا مقابلہ کیا ہے ہم بلوچستان میں چیزوں کو بہتر کر رہے ہیں اگر کہیں کمی یا کوتا ہی ہے تو ہمارے پاس ملک کے فریم ورک میں رہتے ہوئے پارلیمنٹ سمیت دیگر فورمز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو نوجوان ہم سے نالاں ہو کر پہاڑوں پر گئے ہیں ان سے کہتا ہوں کہ آپ کے پاس بہت سے فورم ہیں ان پر آواز اٹھائیں 2013میں آواران نوگو ایریا تھا میں نے 544 ووٹ لئے اس وقت کہا گیا کہ اپنے ووٹوں پر کوئی کونسلر بھی نہیں بنتا لیکن آواران میں ہم کسی کی غمی خوشی میں بھی نہیں جاسکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پہاڑوں پر گئے لوگوں کے لئے میری یہی رائے ہے کہ وہ پڑھے لکھے ہیں جو نقصان ہوا ہے وہ ہو چکا ہے کسی بھی تحریک کو اس وقت تک کامیاب نہیں کیا جا سکتا جب تک عوام اس کے ساتھ نہ ہوں جب عوام انکے ساتھ نہیں ہے اور اب بھی وہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ ٹھیک کر رہے ہیں تو کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ بلوچ عوام کے حقوق لینے کے بجائے ان سے دشمنی کر رہے ہیں؟ اس وقت جو حالات ہیں وہ دیکھ کر نہیں لگتا کہ پہاڑوں پر گئے لوگ عوام کی خیر خواہی کر رہے ہیں جب چیزیں ان کی دسترس سے باہر ہیں اور عوام ان کے ساتھ نہیں ہے تو عقل و فکر کا یہی تقاضہ ہے کہ وہ ایسا فیصلہ کریں جو ان کے حق میں ہو۔

انہوں نے کہا کہ شورش پسند لوگوں کے عمل نے عوام کو فائدہ نہیں نقصان دیا ہے عوام، اپنے آپ کو عذاب میں ڈالنے بجائے وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اگر پہاڑوں پر جانے والے فرزند بلوچستان ہیں تو آج وہ حالات اور وقت کا تقاضہ ہے انہیں اپنا فیصلہ واپس لینا ہوگا۔

انہوں ے کہا کہ بلوچستان کو این ایف سی کا حصہ نہ دینا عجیب فیصلہ ہے،احسن اقبال سمجھدار ہیں لیکن بلوچستان کے معاملے پر انہیں سنجیدگی سے اقدامات کرنے چاہیے۔

Share This Article
Leave a Comment