انڈیا: جنسی استحصال پر ریسلنگ فیڈریشن صدر وکوچز کیخلاف دھرنا

0
62

بھارت کے چوٹی کے پہلوانوں کی جانب سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ دو دن سے غیر معمولی دھرنا دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ’ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا‘ (آر ایف آئی) کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ اور کوچز پر جنسی استحصال کا الزام عائد کیا ہے۔

دھرنے میں متعددمشہور مرد و خواتین پہلوان شریک تھے۔

دھرنے پر اولمپک چمپئین بجرنگ پونیا، اولمپک چمپیئن ساکشی ملک اور دیگر معروف خاتون پہلوان جیسے کہ سنگیتا پھوگاٹ اور ونیش پھوگاٹ بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں پولیس کی جانب سے رات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ لہٰذا انہوں نے رات چاندنی چوک کے ایک مندر میں گزاری اور جمعرات کی صبح کو پھر دھرنے پر بیٹھ گئے۔

کامن ویلتھ گیمز میں تین بار سونے کا تمغہ حاصل کرنے والی خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ فیڈریشن کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کئی برسوں سے خواتین پہلوانوں کا جنسی استحصال کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق 10 سے 12 خواتین پہلوانوں نے ان سے گفتگو میں یہ الزام عائد کیا ہے۔

ونیش پھوگاٹ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن ہیں اور ہریانہ حکومت میں شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ ابھی ان لڑکیوں کے نام نہیں بتائیں گی البتہ اگر وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ نے ملاقات کا وقت دیا تو ان کے سامنے نام بتا دیں گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ سے ملاقات کا وقت مانگا گیا ہے۔

ونیش پھوگاٹ کے مطابق ان کا تو کبھی جنسی استحصال نہیں ہوا البتہ غریب گھرانوں سے آنے والی لڑکیوں کا ہوتا ہے۔ پہلوانی ان کا واحد ذریعہ معاش ہے۔ وہ ان طاقتور لوگوں سے نہیں لڑ سکتیں۔

اولمپک چیمپئن بجرنگ پونیا کا کہنا ہے کہ ہماری لڑائی اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایس اے آئی) سے نہیں بلکہ فیڈریشن کے خلاف ہے۔ ان پہلوانوں کا مطالبہ ہے کہ برج بھوشن شرن سنگھ کو صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ نئے کوچ اور فیزیوز مقرر کیے جائیں اور نیشنل کیمپ کو لکھنؤ سے دہلی منتقل کیا جائے۔

انہوں نے فیڈریشن میں مالی بدعنوانی کا بھی الزام لگایا۔

برج بھوشن شرن سنگھ قیصر گنج سے بی جے پی کے رکن پارلیمان ہیں۔ ان کے بیٹے پرتیک بھوشن گونڈہ اسمبلی حلقے سے بی جے پی کے رکن ہیں۔ برج بھوشن 2011 سے فیڈریشن کے منتخب صدر ہیں۔ 2019 میں وہ تیسری بار منتخب ہوئے ہیں۔

انہوں نے بدھ کو نئی دہلی میں ایک نیوز کانفرنس میں ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جنسی استحصال کے الزامات ثابت ہو جائیں تو وہ پھانسی پر چڑھنے کے لیے تیار ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here