یوکرین کے جنوب مشرقی شہر ڈنیپرو میں روسی میزائل حملے میں نشانہ بننے والی عمارت کے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے جب کہ حکام نے30 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔
خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق روسی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے کے باہر لوگ اپنے زندہ بچ جانے والوں کے بارے میں اچھی خبر کے منتظر ہیں۔
خبر رساں ادارے’رائٹرز’ کے مطابق علاقائی گورنر کی مشیر نتالیہ باباچینکو نے کہا ہے کہ یوکرین میں روسی حملے کے نتیجے میں 30 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ 30 سے زائد زیرِ علاج ہیں جن میں سے 12 کی حالت تشویش ناک ہے۔
باباچینکو نے شبہ ظاہر کیا کہ اب بھی 30 سے 40 کے قریب افراد ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔
یوکرین کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف جنرل ویلری زلوزنی نے کہا کہ روس نے ہفتے کو 33 کروز میزائل داغے جن میں سے 21 کو مار گرایا تھا۔
فضائیہ کی کمان نے کہا کہ اپارٹمنٹ کی عمارت کو نشانہ بنانے والا میزائل Kh-22 تھا جسے روس کے کرسک علاقے سے لانچ کیا گیا تھا، لیکن یوکرین کے پاس اس قسم کے ہتھیاروں کو روکنے کے قابل نظام نہیں ہے۔
ہفتے کو روسی حملوں کے کچھ ہی گھنٹوں بعد برطانیہ نے اعلان کیاتھا کہ وہ یوکرین کو روسی جارحیت سے نمٹنے کے لیے ‘چیلنجر ٹو’ نامی ٹینک فراہم کرے گا۔